کہیں وہ آکے مٹادیں نہ انتظار کا لطف
کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
امریکہ میں بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے کالے کرتوتوں کا چرچہ عام ہے ۔ اس کے تعلق سے مشہور ہے کہ اس نے دنیا بھر کے بڑے تاجروں اور حکمرانوں تک کے بستر گرم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ اس کے استفادہ کنندگان کی فہرست میں دنیا کی کئی بڑی اور اہم شخصیتیں شامل رہی ہیں۔ اسے اس کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے جیل بھیجا گیا تھا اور وہاں اس کی موت ہوگئی ۔ جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے نتیجہ میں برطانیہ میں شاہی خاندان کے ایک فرد کو اپنے رتبہ سے محروم ہونا پڑا تھا ۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں شائد ہی کوئی شعبہ حیات ایسا ہوگا جس کی اہم اور بڑی شخصیتیں جیفری ایپسٹین کی خدمات سے مستفید نہیں ہوئی ہوں ۔ خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی ایسپٹین کی خدمات سے استفادہ کا الزام ہے ۔ اس کے علاوہ کئی اہم شخصیتیں ہیں جن کے چہرے اب ایپسٹین فائیلس کے ذریعہ بے نقاب ہونے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان فائیلس میں ہندوستان کے بھی کئی اہم شخصیتیوں کے نام جڑے ہوئے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک مرکزی وزیر کا نام ان فائیلس میں ہونے کا دعوی کیا گیا تھا ۔ اب ایک بڑے تاجر انیل امبانی کا نام بھی اس میں شامل رہنے کی بات کہی جا رہی ہے تو یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی ان فائیلس سے جڑا ہوا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس تعلق سے کھل کر اظہار خیال کر رہی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ ان فائیلس کی حقیقت کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے اور اس تعلق سے ملک کے سامنے حقائق کو پیش کیا جانا چاہئے ۔ تاہم سرکاری گوشے ہوں یا ہمارا گودی میڈیا ہو سبھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ایسے مسائل پر مباحث کئے جا رہے ہیں جن سے ملک کی ساکھ اور شبیہہ داؤ پر نہیں لگ جاتی ۔ تاہم اگر ایپسٹین فائیلس کے انکشافات میں سچائی کا پتہ چلتا ہے تو پھر اس سے ملک کی ساکھ متاثر ہوگی اور دنیا بھر میں ملک کی شبیہہ داغ دار ہوسکتی ہے ۔ گودی میڈیا اس معاملے میں بھی ہمیشہ کی طرح ڈوغلا معیار اختیار کرتے ہوئے اس کی حقیقت پر کوئی اظہار خیال کرنا نہیں چاہتا اور نہ ہی ان فائیلس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اسے کوئی دلچسپی نظر آتی ہے ۔ وہ صرف فرقہ واریت کو فروغ دینے کوشاں ہے ۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے کھل کرا ظہار خیال کیا جا رہا ہے اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ایپسٹین فائیلس میں وزیر اعظم مودی کا نام بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ کا دباؤ تسلیم کرتے ہوئے ہند ۔ امریکہ معاہدہ امریکی کی شرائط پر طئے کرلیا گیا ہے ۔ اس معاہدہ کے تعلق سے بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس میں ہندوستانی مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا اور صرف ٹرمپ کی شرائط کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ اس تعلق سے کئی امور کو مثال کے طورپر پیش بھی کیا جا رہا ہے تاہم یہاں اصل مسئلہ ایپسٹین فائیلس کا ہی ہے ۔ ان فائیلس کے تعلق سے ساری دنیا جانتی ہے کہ کس طرح سے جعفری ایپسٹین نے دنیا بھر میں جنسی تجارت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا ۔ کس طرح سے دنیا کی بڑی بڑی شخصیتوں اور بڑے بڑے کارپوریٹ تاجروں نے اس سے استفادہ کیا تھا ۔ کون کون اس کی فہرست میں شامل تھا ۔ کس کس سے ایپسٹین نے خدمات حاصل کی تھیں اور کس کس کے بستر اس نے گرم کئے تھے ۔ یہ ایک انتہائی شرمناک صورتحال ہے اور اگر اس میں ہندوستان کے کچھ قائدین اور خاص طور پر وزیر اعظم کا نام شامل ہوتا ہے تو یہ سارے ملک کیلئے شرم کی بات ہے ۔ اس معاملے کی حقیقت کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے ۔ یہ واضح کیا جانا چاہئے کہ ہندوستانیوں کے نام اس فہرست میں کس طرح سے جگہ پائے ہیں اور ان کی سچائی کیا ہے ۔ اگر ان میں کوئی سچائی نہیں بھی ہے تب بھی ساری حقیقت کو سامنے لاتے ہوئے ملک کے وقار اور ملک کی ساکھ کو بچانے کی ضرورت ہے ۔ تاہم ساری کوششیں اس معاملے سے توجہ ہٹانے کیلئے ہی کی جا رہی ہیں۔
گذشتہ دنوں نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی کی ماں کا نام ان فائیلس میں شامل ہونے کا پتہ چلا تھا اور اس پر گودی میڈیا میں اس کی تشہیر بھی خوب ہوئی ۔ اس کے ذریعہ نیویارک کے مئیر کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیںرکھی گئی ۔ تاہم ہندوستانیوں کے ناموں کے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کرتے ہوئے دوہرے معیارات اختیار کئے جا رہے ہیں اور ڈوغلے پن کا ثبوت دیا جا رہا ہے ۔ ملک کی ساکھ اور وقار کو بچانے کیلئے کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے ۔ ایپسٹین فائیلس کی حقیقت کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اس پر سیاست کی جائے یا سیاسی فائدہ کو پیش نظر رکھا جائے ۔ ہر متفکر گوشے کو اس معاملے میں حرکت میں آنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر میں ہندوستان کا وقار مجروح ہونے نہ پائے اور عوام کے ذہنوں میں جو سوال پیدا ہو رہے ہیں انہیں دور کیا جاسکے ۔
غزہ ‘ امن بورڈ اجلاس کی تجویز
امریکہ نے غزہ امن بورڈ اجلاس کی تجویز پیش کی ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ میں اس بورڈ کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور دیگر امور کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر جدید پر فنڈز جمع کرنے کی مہم شروع کی جائے ۔ آج غزہ کی جو صورتحال ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ غزہ میں جلد از جلد تعمیر جدید کے کام شروع کئے جائیں۔ سارا غزہ شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے اور وہاں جو تباہی اسرائیل کی جارحیت اور حیوانیت نے مچائی ہے اس کی مثال کہیں اور ملنی ممکن نہیں ہے ۔ ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک کیلئے ضروری ہے کہ غزہ کی تعمیر جدید پر توجہ مرکوز کرے ۔ غزہ کے نہتے اور بے بس عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات شروع کئے جائیں۔ وہاں دواخانوںاور اسکولس کی تعمیر جدید کی جائے ۔ تمام درکار بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جائے اور ہر ملک اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ اسرائیل وہاں مزید کوئی نوآبادیات قائم نہ کرسکے ۔ مزید کوئی ہلاکت خیز حملے نہ کئے جائیں۔ موسم کے سرد و گرم سے غزہ کے عوام کی حفاظت کی جائے اور زیادہ وقت نہ لگاتے ہوئے تعمیر جدید کے کاموں کا عملا آغاز کیا جاسکے ۔ اس کام کو جتنا جلد ممکن ہوسکے شروع کرنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ تمام ممالک کو اس میں سرگرم حصہ لینا چاہئے ۔