ایچ سی یو طلبہ کے احتجاج کو بی آر ایس کی مکمل تائید : کے ٹی آر

   

چیف منسٹر حکومت کے بجائے بلڈوزر کمپنی چلا رہے ہیں ، رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی طرح کام کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر حکومت چلانے کے بجائے بلڈوزر کمپنی چلانے کا الزام عائد کیا ۔ آج یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ پہلے ماحولیات کے تحفظ کے نام پر موسیٰ ندی کے حدود میں غریبوں کے مکانات پر بلڈوزرس چلائے گئے ۔ قبائیلی اراضیات چھیننے کی کوشش کی گئی ۔ ضلع محبوب نگر میں کمپنیوں کے نام پر غریب کسانوں کی اراضی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اب سرکاری خزانے کو بھرنے کیلئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی قیمتی اراضی کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے ان سے ملاقات کی ہے ۔ وہ اس احتجاج میں پوری طرح طلبہ کے ساتھ ہیں ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ریاست میں عوامی حکومت کے نام پر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں ۔ تعطیلات کے موقع پر نصف شب کو بلڈوزرس چلا رہے ہیں ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو عدلیہ کا بھی کوئی ڈر خوف نہیں ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جب ریونت ریڈی اپوزیشن میں تھے انہوں نے سرکاری جائیدادوں کو فروخت کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح اراضیات فروخت کیا جاتا رہا تو مستقبل میں قبرستانوں اور شمشان گھاٹس کو بھی اراضی نہیں رہے گی ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ ایچ سی یو طلبہ کے احتجاج کو بی آر ایس کی مکمل تائید وحمایت رہے گی ۔ کے ٹی آر نے اراضی کے تحفظ کے لیے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج کو سلیوٹ کیا ۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے دو طلبہ کو گرفتار کرتے ہوئے جیل روانہ کرنے کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دو مرتبہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا دورہ کرنے والے راہول گاندھی اس مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں ؟ کے ٹی آر نے بی جے پی کے بشمول دیگر جماعتوں سے اس مسئلہ پر اپنے موقف کا اظہار کرنے کا مطالبہ کیا ۔۔ 2