ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین کے بہیمانہ قتل کی کے ٹی آر نے مذمت کی

   

قیامگاہ پہنچ کر ارکان خاندان کو پرسہ دیا، فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے حکومت سے مطالبہ

حیدرآباد ۔ 30 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے شہر کے معروف ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین کے دن دھاڑے بہیمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرتے ہوئے خاطیوں کو سخت سے سخت سزاء دینے اور ان کی قیامگاہ پر پولیس کیمپ لگاتے ہوئے ان کے فرزند کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے آج بی آر ایس کے قائدین ٹی سرینواس یادو، کوشک ریڈی، پروین کمار، شیخ عبداللہ سہیل، مقیت چندہ اور دیگر قائدین کے ساتھ مرحوم کی قیامگاہ پہنچ کر ان کے فرزند فرحان اور خاندان کے دیگر ارکان سے ملاقات کی اور پرسہ بھی دیا۔ بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ بالخصوص شہرحیدرآباد میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بگڑجانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین پچھلے کئی برسوں سے وقف جائیدادوں کی حفاظت کیلئے جدوجہد کررہے تھے بالخصوص انوارالعلوم کالج اور ممتاز کالج کے علاوہ دیگر وقف جائیدادوں کو بچانے کیلئے کوشش کررہے تھے۔ اس دوران انہیں کئی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ مرحوم ایڈوکیٹ نے پولیس سے اس کی شکایت کرتے ہوئے انہیں سیکوریٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن پولیس نے ان کی شکایت پر کوئی مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا ان کے قتل کیلئے پولیس کی غفلت اور لاپرواہی ذمہ دار ہے۔ وزارت داخلہ کا قلمدان بھی چیف منسٹر کے پاس ہے لہٰذا چیف منسٹر کو اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ اس قتل میں کانگریس کے قائدین ملوث ہیں۔ وہ اس کو ہرگز سیاسی مسئلہ نہیں بنا رہے ہیںبلکہ متاثرہ خاندان سے انصاف کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ساتھ ہی فرحان کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں بصورت دیگر ہم خانگی سیکوریٹی فراہم کرنے کے بارے میں غور کریں گے۔ وہ اس معاملے میں چیف منسٹر سے مطالبہ کرتے ہیں فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرتے ہوئے کیس میں تیزی پیدا کریں اور متاثرین کے ساتھ انصاف کریں۔2