ایک امریکی ڈالر 14 لاکھ ایرانی ریال کے مساوی

   

Ferty9 Clinic

ایران کو شدید معاشی بحران کا سامنا،امریکی پابندیوںسے ایرانی ریوینو سورس بری طرح متاثر

تہران: یکم جنوری ( ایجنسیز ) ایران کی کرنسی ریال امریکی ڈالر کے مقابلہ میں 14 لاکھ کی نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ یعنی اب ایک امریکی ڈالر خریدنے کے لیے 14 لاکھ ایرانی ریال خرچ کرنے پڑیں گے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ ریال کی قدر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ریال میں یہ نمایاں کمی پابندیوں اور علاقائی کشیدگیوں کے درمیان ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایران میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ریال کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد ایران کے سنٹرل بینک کے ہیڈ محمد رضا فرزین نے پیر (29 دسمبر) کو استعفیٰ دے دیا ہے۔ کیونکہ ملک کی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر گرنے کے بعد تہران اور کئی دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ محمد رضا فرزین کے استعفیٰ کی خبر سے قبل سیکڑوں تاجروں اور دکانداروں نے تہران کے ڈاؤن ٹاؤن میں سعدی اسٹریٹ کے ساتھ ساتھ تہران کے مرکزی گرینڈ بازار کے پاس شوشو محلہ میں ریلی کی۔ تہران کے کئی حصوں میں مظاہرہ کر رہے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا، سڑکوں پر حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ حالانکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مظاہرین کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں تاکہ مسائل کا جلد حل نکالا جا سکے۔یہ صورتحال عالمی سرمایہ کاروں اور ایرانی شہریوں کا اپنی قومی کرنسی ریال اور ملک کے معاشی استحکام پر شدید بے اعتمادی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران کو بین الاقوامی بینکنگ سسٹم (جیسے سویفٹ) سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے غیر ملکی تجارت اور لین دین تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں نے ایران کے سب سے بڑے ریونیو سورس، تیل کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے، کیونکہ ایران تیل فروخت نہیں کر پا رہا ہے اور اسے غیر ملکی کرنسی نہیں مل رہی ہے۔2015 کے جوہری معاہدے کے وقت ایران کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 32000 ریال پر ٹریڈ کر رہی تھی، جس نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت کنٹرول کے بدلے بین الاقوامی پابندیاں ہٹا دی تھیں۔ یہ ڈیل اس وقت ٹوٹ گئی جب 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس سے الگ کر لیا۔ رواں سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 دن کی لڑائی کے بعد نئے تصادم کے خطرے کو لے کر بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ کئی ایرانی اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ ایک بڑے تصادم کا امکان ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ کی تشویش بڑھ جائے گی۔ اسی طرح رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ نے ایران پر ایٹمی پروگرام سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔

جسے سفارت کاروں نے ’اسنیپ بیک‘ میکانزم قرار دیا۔ ان اقدامات نے ایک بار پھر بیرون ملک ایرانی اثاثوں کو فریز کر دیا، تہران کے ساتھ ہتھیاروں کے لین دین کو روک دیا اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ جرمانے عائد کر دیے۔واضح رہے کہ ریال میں تیزی سے ہو رہی گراوٹ کی وجہ سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ کی دوسری ضرورتوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور گھروں کے بجٹ پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ یہ ٹرینڈ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی سے مزید خراب ہو سکتا ہے۔