نقیب امن رہا میں محاذ جنگ پہ بھی
یہی اصول مری فتح کا سبب ٹھہرا
ایران میں عوامی احتجاج کو بہانہ بناتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک اور جنگ کی تیاری کے اندیشے تقویت پانے لگے ہیں۔ اسرائیلی اور امریکی ذرائع یہ کہنے لگے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور وہاں اقتدار کی تبدیلی یا پھر ایرانی رہنماء سید علی خامنہ ای کی بیدخلی کے منصوبے بنائے جاچکے ہیں اور ان کو قطعیت بھی دیدی گئی ہے اور مناسب وقت پر ان منصوبوںپر عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے گا ۔ ایران میں عوام کو مشتعل کرتے ہوئے سڑکوں پر اتارنے اور تشدد کیلئے اکسانے کے الزامات بھی امریکہ اور اسرائیل پر عائد کئے جانے لگے ہیں اور جلا وطن شاہ رضاء پہلوی کی جانب سے بھی بارہا ایرانی عوام کو اشتعال دلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ وہ لگاتار عوام کو اکسا رہے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت پیداکریں۔ شہر کے مرکزی مقامات پر قبضہ کی کوشش کریں اور ساتھ ہی وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران میں مداخلت کریں۔ یہ مداخلت فوجی ہی ہوسکتی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس طرح کی اپیلوں کو بہانہ بناتے ہوئے ایران کے خَاف حملے شروع کئے جاسکتے ہیں۔ علاقہ کو جنگ و جدال کا مرکز بنائے رکھنے اس طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں جبکہ صدر ٹرمپ ایک جانب مسلسل یہ دعوے کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی دوسری معیاد میں جملہ آٹھ جنگیں رکوائی ہیں ۔ وہ لگاتار ہند ۔ پاک جنگ رکوانے کا بھی دعوی کرتے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ امن کا نوبل انعام حاصل کرنا چاہتے تھے تو دوسری طرف وہ ایران پر ایک اور جنگ مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جہاں تک ایران کا سوال ہے تو اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی جاتی ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو خطہ میں امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں اور ان کے فوجیوںکو نشانہ بنایا جائے گا ۔ اس طرح یہ اندیشے تقویت پانے لگے ہیں کہ نہ صرف ایران پر جنگ مسلط کی جائے گی بلکہ اس کے نتیجہ میں سارے علاقہ کے حالات درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے اور دنیا بھر پر اثرات مرتب ہونگے ۔
ایران کی مخالفت امریکہ اور اسرائیل کا وطیرہ رہا ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سے ایران کو کمزور کرنے کیلئے منصوبے بنائے گئے ہیں اور اس کیلئے رضاء پہلوی اور اسی طرح کے عناصر کی مدد لی جا رہی ہے ۔ عوام کو مشتعل کرتے ہوئے تشدد پر اکسایا جا رہا ہے اور اس کو بہانے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنے عزائم اور منصوبوں کی تکمیل کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ ایک خطرناک سازش کہی جاسکتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں سارے مشرق وسطی اور خلیج فارس کے ممالک زد میں آسکتے ہیں اور ایران کے بہانے سارے علاقہ کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ دنیا بھر کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو ان کے جارحانہ اور ظالمانہ منصوبوں سے باز رکھیں اور انہیں جنگ مسلط کرنے کی کوششوں سے با ز رکھا جائے ۔ یہ بات اٹل حقیقت ہے کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی جائے تو یہ ایران تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ سارا علاقہ اس کی زد میں آسکتا ہے اور ساری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ اثرات انتہائی منفی ہوسکتے ہیں جو دنیا کے جو حالات مشکل ترین کہے جا رہے ہیں وہ اور بھی ناگفتہ بہ ہوسکتے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈونالڈ ٹرمپ اور بنجام نتن یاہو پر عائد ہوسکتی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے جس طرح سے غزہ میں تباہی مچائی اورا پنے منصوبوںکو پورا کیا اسی طرح ونیزویلا میں امریکہ اپنے منصوبوںکو عملی جامہ پہنانے کوشاں ہے اور وہاں تیل کی دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو ایران کے تعلق سے بھی اس کے عزائم اسی طرح کے ہیں۔
مشرق وسطی اور خلیج فارس کا علاقہ پہلے ہی مشکل حالات کا شکار ہے ۔ وہاں جنگیں لڑی گئی ہیں۔ امریکہ کئی ممالک میں اقتدار کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو ذمہ داری سونپ چکا ہے تو ایسے میں ایران کے تعلق سے بھی اس کے عزائم اور منصوبے کچھ اسی طرح کے ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دوسرے مغربی ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کے پٹھو بنے رہنے کی بجائے اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے آگے آناچاہئے تاکہ دنیا کو ایک اور جنگ اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے بصورت دیگر جو تباہی ہوگی اس کی ذمہ داری ان سب پر بھی عائد ہوگی ۔
