ظلمت شب میں ہمیں تھے روشنی کے مدعی
آتشِ غم سے ہمیں شعلہ بجاں ہونا ہی تھا
ملک بھر میں ایسا لگتا ہے کہ ایک منظم منصوبہ کے تحت فرقہ واریت کے جنون کو تھمنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ ایک واقعہ کے بعد دوسرے واقعہ کا سلسلہ سا چل پڑا ہے ۔ چند دن قبل اترپردیش میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعہ کے بعد اب اندور میں ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جس میں چوڑیاںفروخت کرنے والے ایک مسلم نوجوان کو جنونیت پسندوں نے اپنی بزدلی کا نشانہ بنایا اور درجنوں افراد نے مل کر ایک نوجوان پر اپنی بھڑاس نکالی اور اسے زد و کوب کرنے کے علاوہ اس سے رقم چھین لی گئی ۔ اس کے ساز و سامان کو تباہ کردیا گیا ۔ اس طرح کے واقعات سارے ملک میں یکے بعد دیگر پیش آتے جا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مقامی انتظامیہ اور حکومتیں سنجیدہ نہیںہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ انتظامیہ اور حکومتیں چاہتی ہیں کہ ایسے واقعات ہوتے رہیں اور سماج میںفرقہ پرستی کا زہر گھلتا رہے ۔ اسی طریقے سے سیاسی عزائم اور منصوبوںکو پورا کیا جاسکتا ہے ۔ عوام کے درمیان ان کے مسائل پر بات کرنے اور حکومتوں کی کارکردگی پیش کرنے کیلئے تو کوئی تیار نہیں ہے ایسے میںصرف فرقہ پرستی کی آگ بھڑکاتے ہوئے سیاسی روٹیاں سینکی جا رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ذمہ داران کی جانب سے ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کرنے کی بجائے حملہ آوروں اورجنونیت پسندوں کے حق میں جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ حکام اور انتظامیہ کی متعصب ذہنیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ اندور میں ایک نہتے اور اپنی روزی روٹی کمانے میںمصروف نوجوان کو پیٹا جا تا ہے ۔ اس سے رقم چھین لی جاتی ہے ۔ اس کے مال کو تباہ کردیا جاتا ہے اور ریاست کے وزیر داخلہ اس پر یہ جواز پیش کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں کہ اس نوجوان نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ ہجوم کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ کسی کی شناخت پر سوال کرے ۔ اگر متاثرہ نوجوان کے تعلق سے کسی کو کوئی شکوک و اندیشے تھے تو پولیس کو مطلع کیا جاتا ۔جنونیت پسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کس نے دیا ہے ؟ ۔
جہاں تک پولیس کا سوال ہے وہ بھی متاثر کی مدد کرنے کی بجائے حملہ آوروں کو بچانے کی زیادہ کوشش کرتی ہے ۔ متاثرہ شخص کے خلاف من مانے مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور حملہ آوروں کی آو بھگت کی جاتی ہے ۔ اندور میں بھی پولیس نے اب عوام سے اپیل کی ہے کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے سوشیل میڈیا پوسٹ پر رد عمل ظاہر نہ کریں اور ان پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔ اگر پولیس یہی نظر منافرت پھیلانے والوں پر رکھی جاتی اور سر عام مذہبی منافرت اور جنونیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نہتے شخص پر حملہ آور ہونے والی درجنوں کی بھیڑ میں قانون کا احساس پیدا کیا جاتا تو شائد ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہوسکتا ۔ تاہم پولیس بھی اپنے سیاسی آقاوں کے اشاروں پر اور اپنی متعصب ذہنیت کے ساتھ کام کرنے کی عادی ہوچکی ہے ۔ پولیس صورتحال کو بگاڑنے اور حملہ کرنے والوں کے ساتھ تو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پیش آتی ہے لیکن جو لوگ ایسے واقعات کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے ۔ یہ پولیس کا بھی دوہرا معیار ہے ۔ پولیس کے کردار پر بھی سوال پیدا ہونے لگے ہیں اور پولیس کی غیرجانبداری بھی مشکوک ہو چکی ہے ۔ متاثرہ فرد کی قانونی مدد کرنے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کی بجائے پولیس سارے واقعہ کا رخ ہی بدلنے کی کوشش زیادہ مستعدی سے کرنے لگ جاتی ہے جس سے پولیس کا رول بھی مشکوک ہوگیا ہے ۔
اندور کے ضلع کلکٹر تو اس معاملے میں ایک قدم آگے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات بگاڑنے کیلئے کچھ ممنوعہ تنظمیں سرگرم ہیں ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر پولیس سے سوال کیا جانا چاہئے کہ ان سرگرمیوں کو کچلنے کیلئے پولیس نے کچھ نہیں کیا ۔ ضلع کلکٹر کو جواب دینا چاہئے کہ آیا ایک نہتے نوجوان کو پیٹنے والے ان ممنوعہ تنظیموں کے ارکان تھے ؟ ۔ جن جنونیوں نے حملہ کیا اور ایک نہتے شخص کو مار پیٹ کرکے اپنی بہادری دکھانے کی کوشش کی تھی ان کو بچنے کا راستہ فراہم کرنے کی بجائے ذمہ دار حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے اور جن فرقہ پرستوں نے ماحول پراگندہ کیا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔
