ایک تہی دست سے کیا کیا تن فانی مانگے
سایۂ زیست میں ہے نقل مکانی مانگے
کانگریس کا داخلی خلفشار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔ پارٹی کی قیادت کی جانب سے بحران کو حل کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ اقدامات ضرور ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ صورتحال کے مطابق اور اس کی سنگینی کے مطابق اقدامات نہیں ہیں اور ان سے فائدہ کی بجائے پارٹی کو نقصان ہی ہو رہا ہے ۔ گوا میں سابق چیف منسٹر نے پارٹی سے ترک تعلق کرلیا ۔ پنجاب میں امریندر سنگھ چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ۔ سدھو سے ان کے اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ چند دن میں ہی سدھو نے خود پردیش کانگریس کی صدارت سے استعفی پیش کردیا تھا ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں گے ۔ اسی طرح کچھ دوسری ریاستوں میں بھی صورتحال پارٹی کیلئے اچھی نہیں ہے ۔ پارٹی کے اقتدار والی ریاست چھتیس گڑھ میںب ھی ایسا لگتا ہے کہ چیف منسٹرکی تبدیلی کیلئے ماحول بنتا جا رہا ہے ۔ پارٹی ہائی کمان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے بھوپیش باگھیل کو تبدیل کریں۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ 2018 میں پارٹی نے اقتدار حاصل ہونے کے بعد چیف منسٹر کے عہدہ کے تعلق سے ایک فارمولا تیار کیا تھا جس کے تحت اب مسٹر باگھیل کو تبدیل کرنا ہے ۔ چھتیس گڑھ کے کانگریس ارکان اسمبلی کی ایک خاطر خواہ تعداد دہلی پہونچی ہوئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ چیف منسٹر باگھیل کے حامی ہیں اور وہ چیف منسٹر کی تبدیلی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف آج کانگریس پارٹی نے مسٹر باگھیل کو اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے سینئر مبصر مقرر کردیا ہے ۔ اس طرح انہیں ریاست کے باہر ذمہ داری دیتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی نے انہیں بھی تبدیل کرنے کے عمل کا آعاز کردیا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں مسٹر باگھیل نے بھی دہلی کے دورے کئے ہیں اور انہوں نے بھی اپنی کرسی بچانے کی کوشش کی ہے ۔ تاہم پارٹی مرکزی قائدین کے سامنے مسٹر باگھیل کی تبدیلی کے حامی گروپ کو مطمئن کرنے کا ہے اور یہ اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا کام ہے کیونکہ کئی ریاستوں میں پارٹی انتشار اور داخلی خلفشار کا شکار ہوگئی ہے ۔
ایک ایسے وقت جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد آئندہ عام انتخابات کیلئے بھی زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے ایسے میں اگر کانگریس میں اسی طرح کاد اخلی خلفشار جاری رہا اور اس سلسلہ کو فوری روکا نہیں گیا تو پھر پارٹی کیلئے صورتحال انتہائی مشکل ہوجائے گی ۔ پہلے ہی پارٹی مسائل کا شکار ہے ۔ قیادت کی عدم کارکردگی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پارٹی میں سینئر قائدین کی رائے کو احترام نہ ملنے کی شکایات ہو رہی ہیں۔ سینئر قائدین اگر پارٹی کے کسی فیصلے سے اتفاق نہیں کر تے ہیں تو ان پر یا ان کے گھروں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہیں دوسروں کی جانب سے تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ نوجوان قائدین کو موقع دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس کا خیر مقدم ہونا چاہئے لیکن سینئر قائدین کے تجربات کو بھی نظر انداز کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ پارٹی میں داخلی جمہوریت اور تنظیمی تبدیلیوں کیلئے جن 23 قائدین نے مکتوب تحریر کیا تھا انہیں کچھ گوشوں کی جانب سے پارٹی مخالفین کی طرح دیکھا جا رہا ہے جو درست نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کیلئے پارٹی کو فراخدلی سے اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کی ضـرورت ہے ۔ جو کچھ بھی پارٹی اصلاحات ہونی چاہئیں انہیں فوری لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح چھتیس گڑھ میں چیف منسٹر کی تبدیلی اگر واقعی پارٹی کو کرنی ہے تو پھر اسے سبھی کو اعتماد میں لیتے ہوئے کسی ناراضگی یا اختلاف کی گنجائش رکھے بغیر اس کو انجام دینا چاہئے ۔
تنظیمی سطح پر کانگریس صرف ان ریاستوں میں مستحکم نظر آتی ہے جہاں پارٹی کو اقتدار حاصل ہے ۔ ایسے میں اگر چھتیس گڑھ میں بھی پارٹی میں داخلی اختلافات یا خلفشار پیدا ہوتا ہے تو اس کا نقصان پارٹی کو انتخابات میں ہوسکتا ہے ۔ اس صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے پارٹی کو ایسا کوئی فارمولا تیار کرنا چاہئے جس سے کسی بھی گروپ کی دلآزاری نہ ہو اور نہ کسی کیلئے کسی طرح کی مخالفانہ سرگرمیوں کی کوئی گنجائش رہ جائے ۔ اس کیلئے پارٹی کے مرکزی قائدین کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں زیادہ سے زیادہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کیلئے دستیاب رہنے کی ضرورت ہے ۔ بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے اور سبھی قائدین کو اور کارکنوں کو یہ احساس دلانا چاہئے کہ پارٹی اور اس کے قائدین ان کے ساتھ ہیں اور ان کی تجاویز کو پیش نظر رکھا جائیگا ۔اسی طرح سے صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور ایسا ہی کیا جانا چاہئے ۔
ورون گاندھی ‘ وجود کا احساس دلانے کوشاں
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی میں اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابتداء میں شعلہ بیان تقاریر اور کچھ اشتعال انگیز ریمارکس کی وجہ سے ورون گاندھی سرخیوں میں رہے تھے ۔ بعد میں وہ بی جے پی میں ایسا لگتا ہے کہ نظر انداز کردئے گئے تھے اور وہ خاموش بھی ہوگئے تھے ۔ ان کی سرگرمیوں کی کوئی تشہیر نہیں ہو رہی تھی ۔ کسی اہم مسئلہ پر ان کے کوئی بیانات سامنے نہیں آ رہے تھے ۔ پارٹی قیادت نے بھی شائد انہیں نظر انداز کردیا تھا اور انہیں خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی ۔ اسی وجہ سے شائد ورون گاندھی اب بتدریج اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ گذشتہ دنوں ہجومی تشدد کے خلاف ریمارکس کرنے کے بعد اب ورون گاندھی نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی مدح سرائی کرنے والوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ گوڈسے کی پوجا کرتے ہیں یا پھر اس کی مدح سرائی کرتے ہیں انہیں عوام میں لانے اور شرمندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہوتے ہوئے ایسا بیان دیتے ہوئے ورون گاندھی پارٹی قیادت اور مرکزی قائدین کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی میں ایسے بے شمار قائدین موجود ہیں جو ناتھو رام گوڈسے کی مدح سرائی کرتے ہیں۔ اس کی مندر بنائی گئی ہے اور پوجا بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر ورون گاندھی گوڈسے کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں تو انہیں پارٹی کے ہی کچھ قائدین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شائد اسی طرح ورون گاندھی اپنے وجود کا احسا س دلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ حکمت عملی بی جے پی کیلئے شائد قابل قبول نہیں ہو سکے گی ۔
