دنیا نے کورونا بحران کے دوران جس صورتحال کا سامنا کیا ہے وہ ساری دنیا کیلئے انتہائی غیر متوقع اور مشکل ترین تھی ۔ لاکھوںافراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ کروڑہا افراد اس وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئے ۔ دواخانوںمیں عوام کو بستر تک دستیاب نہیں تھے ۔ ادویات کی قلت تھی ۔ آکسیجن کی قلت کے نتیجہ میں عوام اپنی زندگیوںسے محروم ہو رہے تھے ۔ ساری صورتحال میں حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کئے گئے ۔ حالانکہ عوام کو جو تکالیف تھیں ان کا کوئی ازالہ حکومت کے اقدامات سے ممکن نہیںہوسکا لیکن جو احتیاط عوام کی جانب سے کی گئی اس کے نتیجہ میں عوام کی بڑی تعداد کو اس مہلک اور ہلاکت خیز بحران سے بچنے میں بڑی حد تک مدد ملی تھی ۔کورونا کی دو تا تین لہروں کا سامنا کرنے کے بعد حالات دنیا بھر میں بتدریج بہترہوئے تھے ۔ دھیرے دھیرے زندگی معمول پر آنے لگی تھی ۔ جو لوگ کورونا بحران کی وجہ سے بے طرح مشکلات کا شکار ہوئے تھے اب ان کی زندگیوں میں بھی بہتری آنے لگی تھی ۔ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگئی تھیں۔ کام کاروبار میںقدرے سرعت آنے لگی تھی ۔ایسا لگ رہا تھا کہ لوگ کورونا بحران کو فراموش کرچکے ہیں۔ لوگ معمولات زندگی میں مشغول ہونے لگے تھے کہ اب اچانک ایک بار پھر ماہرین اور سائنسدانوں نے خبردار کردیا ہے کہ کورونا کی ایک اور خطرناک لہر پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ہلاکتیں بھی بہت زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لوگ اس سے نمٹنے کیلئے احتیاط سے کام لیں۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں کی جانب سے اس خطرہ کا اظہار ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چین میں کورونا کے کیسوں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ چین میں کورونا پر پوری طرح سے قابو نہیں پایا گیا تھا ۔ وقفہ وقفہ سے کچھ علاقوںاور شہروں میں لاک ڈاؤن بھی نافذ کیا جا رہا تھا ۔ حالانکہ چین کی صورتحال پر سبھی کی نظر تھی لیکن اپنے اپنے علاقوں کے تعلق سے قدرے بے فکری بھی تھی ۔ اب اچانک ہی جاپان ‘ امریکہ ‘ کوریا اور برازیل میں بھی ایک بار پھر سے کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور ماہرین اس صورتحال سے تشویش اور اندیشوں کا شکار ہوگئے ہیں۔
ہندوستان میں بھی آج مرکزی حکومت نے کورونا کی امکانی صورتحال کا ایک اعلی سطح کے اجلاس میں جائزہ لیا ہے اور ملک کی تمام ریاستوں کے عوام کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ابھی سے پرہجوم مقامات پر ماسک کااستعمال شروع کردیں۔ ہندوستان بھر میں حالانکہ کورونا سے بچاؤ کیلئے عوام کی ایک بڑی تعداد نے ٹیکے بھی لئے ہیں لیکن اس کے باوجود صورتحالا کی سنگینی کے اندیشوںکو مسترد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی طرح کی لاپرواہی سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں دو مرتبہ جو تجربات ہمیں ہوئے ہیں ان سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمیں پہلے ہی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ ادویات ہوں کہ آکسیجن ہو یا پھر دواخانوں میں بستروں کی دستیابی ہو سبھی امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے آنے والی امکانی مشکلات سے نمٹنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ جہاںتک عوام کی بات ہے تو عوام کو بھی حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ چاہے ماسک کا استعمال ہو یا پھر پرہجوم مقامات سے دوری اختیار کرنی ہو یا پھر اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہو ۔ سبھی کو اس تعلق سے غور و فکر کرتے ہوئے اپنے طور پر بھی اقدامات کرنے اور احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ ممکنہ حد تک احتیاط سے کام لیتے ہوئے ہم بڑی مشکلات سے خود کو اور اپنے آس پاس کے لوگوںکو بچا سکتے ہیں۔ اس تعلق سے سبھی گوشوں میںشعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوامی شعور بیدار کرتے ہوئے بھی ہم اس وائرس سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
ماضی میں ہمیں جو تجربات ہوئے ہیں اور دو لہروںمیںہندوستان نے جس تباہی کا سامنا کیا ہے اور جس طرح کا انسانی بحران ہم نے دیکھا ہے اس کے پیش نظر ہم کسی طرح کی لاپرواہی کے متحمل نہیںہوسکتے۔ حکومت کے اقدامات پر ہی تکیہ کرنے سے بھی ہمیں گریز کرنا چاہئے ۔ ہمیں اپنے طور پر بھی اس مہلک اور خطرناک وائرس یا اس کے دوسرے ویریئنٹس سے بچنے کی ترکیب کرنے کی ضر ورت ہے ۔ قبل از وقت اگر ہم نے احتیاط شروع کردی تو پھر صورتحال سے نمٹنا ہمارے لئے زیادہ مشکل نہیںہوگا ۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہوگی کہ ہم اب مزید کسی بڑی تباہی یا انسانی بحران کا سامنا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔