مہاراشٹرا کے 2 سرحدی گرام پنچایت کا تنازعہ، 5 ہزار افراد کو تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں ووٹ کا حق، فلاحی اسکیمات سے دوہرا فائدہ
حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن ملک میں فہرست رائے دہندگان کو نقائص سے پاک بنانے کے اقدامات کررہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں کمیشن نے ملک بھر میں خصوصی مہم کے ذریعہ فہرست رائے دہندگان میں بوگس ناموں کو حذف کرنے کی مہم چلائی۔ اس کے علاوہ فوت ہونے والے افراد اور علاقہ منتقل کرنے والے افراد کے ناموں کو حذف کرنے پر توجہ دی گئی۔ الیکشن کمیشن کی اس مساعی کے باوجود مہاراشٹرا اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں واقع ایک منڈل ایسا ہے جہاں 3000 سے زائد آبادی ہے اور تقریباً 5 ہزار افراد کو مہاراشٹرا اور تلنگانہ دونوں ریاستوں میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ مہاراشٹرا کے چندرا پور ضلع اور تلنگانہ کے آصف آباد ضلع کے کیرا میری منڈل کے درمیان 14 دیہات موجود ہیں جو پرندولی اور انتا پور گرام پنچایتوں کے تحت آتے ہیں۔ ان دیہاتوں میں 3023 خاندان بستے ہیں جن کی آبادی تقریباً 5 ہزار سے زائد ہے۔ پانچ ہزار افراد کو مہاراشٹرا اور تلنگانہ دونوں میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ دونوں گرام پنچایت مہاراشٹرا اور تلنگانہ حکومتوں پر انحصار کرتے ہیں اور عوام دونوں ریاستوں کے تقریباً تمام انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ پرندولی کے پہلے سرپنچ لکشمن کامبلے نے انکشاف کیا کہ دونوں گرام پنچایتوں کا تعلق دونوں ریاستوں سے ہے۔ 1995 میں لکشمن کامبلے پہلی مرتبہ سرپنچ منتخب ہوئے تھے اور وہ علاقہ میں اپنا خاصہ اثر رکھتے ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے 30 نومبر کو رائے دہی مقرر ہے اور دونوں دیہاتوں کے عوام انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری میں ہیں۔ ان علاقوں میں مراٹھی بولنے والے ایس سی طبقات کی آبادی ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کی عدم یکسوئی کے نتیجہ میں دونوں گرام پنچایتوں کے عوام کو دونوں ریاستوں میں رائے دہی کا حق حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ علاقہ میں درج فہرست قبائیل اور مسلمانوں کی آبادی ہے جو خشک سالی سے متاثرہ ناندیڑ، پربھنی، لاتور اور جالنہ اضلاع سے روزگار کی تلاش میں 1970-71 کے درمیان منتقل ہوئے ہیں۔ دونوں گرام پنچایتوں میں اہم سیاسی پارٹیوں کے امیدوار انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور دونوں دیہات سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ ہمارا تعلق دونوں ریاستوں سے ہے۔ ہر الیکشن میں ووٹ دینے کے باوجود گرام پنچایتوں کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ دیہاتوں کے درمیان سڑک رابطہ کی کمی، طبی سہولتوں کا فقدان اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع کم ہیں۔ مقامی افراد کے پاس دونوں ریاستوں کے ووٹر شناختی کارڈز موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دوہرے تعلق کے نتیجہ میں مقامی افراد دونوں ریاستوں کی فلاحی اسکیمات سے استفادہ کررہے ہیں۔ دیگر ریاستوں کی بہ نسبت یہ شاید منفرد مثال ہے جہاں سرحدی تنازعہ کی آڑھ میں کئی مواضعات دونوں حکومتوں کی فلاحی اسکیمات سے استفادہ کررہے ہیں۔