ساوتھمپٹن ۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے یہاں نیوزی لینڈ سے پہلی آئی سی سی ورلڈ ٹسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیوٹی سی) کا فائنل گنوانے کے بعد کہا کہ وہ ایک میچ میں بہترین ٹیم طے کرنے پر متفق نہیں ہیں۔وراٹ نے مستقبل میں ڈبلیوٹی سی فائنل کافاتح طے کرنے کے لئے ایک سے زیادہ میچ کروائے جانے پر زوردیا، حالانکہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی رائے نتیجے پر مبنی نہیں ہے ، لیکن دوسال کے مرحلے میں کھیلے گئے ٹورنمنٹ سے بہترین ٹیم کا فیصلہ صرف ایک میچ نہیں کرسکتا اورنہ ہی دو فائنلسٹ ٹیموں کے کردار کی مستند تصویر پیش کرسکتا ہے ۔وراٹ کا یہ موقف ٹیم کے ہیڈکوچ روی شاستری اورہندوستانی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹندلکر کے خیالات کی حمات کرتا ہے ۔ دراصل ڈبلیو ٹی سی فائنل سے قبل روی ساشتری اورسچن نے کہا تھا کہ ایک فائنل میچ کے بجائے تین میچ مناسب ہوں گے ۔ شاستری نے کہا تھا طویل وقت میں اس فائنل کوایک میچ کے بجائے بسٹ آف تھری مقابلہ ہونا چاہیے ۔ہندوستانی کپتان نے آن لائن پریس کانفرنس میں کہاسچ کہوں تومیں ایک میچ کی بنیادپر دنیا کی بہترین ٹسٹ ٹیم کا فیصلہ کرنے سے پوری طرح متفق نہیں ہوں۔ اگریہ ایک ٹسٹ سیریز ہوتی تو اس میں تین ٹسٹ میچوں میں کردارکا امتحان ہوتا کہ کون سی ٹیم سیریز میں واپس آئے یا دوسری ٹیم کو پوری طرح سے اڑا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ صرف دونوں کے اچھے کرکٹ کے لئے دباوبنانا اورپھرآپ اچانک ایک اچھی ٹسٹ ٹیم نہیں ہیں۔ مجھے ان میں یقین نہیں ہے ۔انہوں نے کہا میراماننا ہے کہ ڈبلیو ٹی سی کا فائنل تین میچوں کا ہونا چاہیے ، تاکہ آپ ایک ٹیم کے طورپر اسی کے مطابق تیاری کریں اور آپ کے پاس ایک موقع ہو۔