بیروت: لبنانی حکام کی جانب سے مخصوص کیے گئے پناہ گزین مراکز میں سے کئی مراکز گنجائش نہ ہونے کے سبب جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات سے آنے والے ہزاروں افراد میں سے بہت سے لوگوں کا استقبال کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان افراد نے بیروت کی سڑکوں، کھلے میدانوں اور پارکوں میں زمین پر فرش بچھا لیے ہیں۔العربیہ اور الحدث چینلوں کے نمائندے نے منگل کے روز بتایا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے یہ افراد خیموں کے بغیر کھلے آسمان تلے موجود تھے کہ ان کو بارش نے آ لیا۔یہ افراد اپنے بچوں سمیت بارش میں بھیگتے رہے کیوں کہ یہ بے سروسامانی کی حالت میں اچانک گھروں کو چھوڑ کر نکلے تھے۔نقل مکانی کرنے والے افراد میں جن افراد نے اسکولوں اور پناہ گزین مراکز میں پناہ لی انھوں نے لبنانی حکام کی بد حواسی کی شکایت کی ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی نے اچانک جنم نہیں لیا بلکہ یہ تقریبا ایک سال پہلے شروع ہوئی تھی۔گذشتہ برس آٹھ اکتوبر کو فریقین کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات سے نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد تقریبا دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار لبنانی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے۔ادھر 23 ستمبر سے لبنان کے مختلف علاقوں پر کی گئی شدید بمباری کے نتیجہ میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین کے ذمے دار فلیپو گراندی نے پیر کے روز بتایا کہ تقریبا ایک لاکھ افراد سرحد پار کر کے شام فرار ہو گئے۔