ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانا حکومت کی اوّلین ترجیح : ریونت ریڈی

   

مہیلا گروپس کو سال میں 2 مرتبہ ملبوسات کا تحفہ، نارائن پیٹ اور محبوب آباد اضلاع میں چیف منسٹر نے ترقیاتی پروگراموں میں حصہ لیا، مہیلا گروپس اور میڈیکل طلبہ سے بات چیت
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نارائن پیٹ ضلع میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور نئی سرکاری عمارتوں اور پٹرول پمپس کا افتتاح انجام دیا۔ چیف منسٹر نے 130 کروڑ کے صرفہ سے تعمیر کی جانے والی گورنمنٹ میڈیکل کالج اور ہاسٹل کی عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اُنھوں نے 200 کروڑ سے تعمیر کئے جانے والے ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکول کامپلکس کا سنگ بنیاد رکھا۔ نارائن پیٹ میں 26 کروڑ سے نرسنگ کالج قائم کیا جائے گا اور 40 کروڑ سے 100 بستروں کا یونٹ قائم ہوگا۔ چیف منسٹر نے 296 کروڑ سے 2 اہم سڑکوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اُنھوں نے میڈیکل کالج کے اکیڈیمک بلاک کا افتتاح کیا۔ چیف منسٹر نے 5.58 کروڑ سے تعمیر کی گئی نارائن پیٹ رورل پولیس اسٹیشن کی عمارت کا افتتاح انجام دیا۔ ڈسٹرکٹ ویمنس اسوسی ایشن کے پٹرول پمپ کا چیف منسٹر نے افتتاح کیا جو 1.23 کروڑ سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ اُن کی حکومت ریاست میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کے مقصد سے میڈیکل کالجس قائم کررہی ہے۔ طلبہ کو میڈیکل تعلیم کے لئے دیگر اضلاع کا رُخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے سیلف ہیلپ گروپس اور نارائن پیٹ میڈیکل کالج کے طلبہ سے بات چیت کی اور علاقہ کی ترقی کے لئے ممکنہ اقدامات کا یقین دلایا۔ اُنھوں نے کہاکہ دور دراز علاقہ میں میڈیکل، پیرا میڈیکل اور نرسنگ کالج کا قیام خوش آئند ہے۔ سابق میں مرکزی حکومت نے اِس منصوبہ کو مسترد کردیا تھا لیکن وزراء اور حکام کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں 8 نئے میڈیکل کالجس کی منظوری حاصل کی گئی۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ حقیقی ترقی سماجی انصاف سے ممکن ہے۔ عوامی نمائندے عوام کی بنیادی ضرورتوں سے واقف ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین نے چیف منسٹر کو بتایا کہ پٹرول پمپ کے قیام سے اُنھیں ماہانہ 4 تا 5 لاکھ روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیاکہ مہیلا گروپس کو سال میں 2 مرتبہ حکومت کی جانب سے ساڑیاں بطور تحفہ دی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے محبوب آباد ضلع کے دورہ کے موقع پر خواتین کی بھلائی کے لئے کئی اسکیمات کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جس طرح اپنی بیٹیوں کو تحفہ دیا جاتا ہے اُسی طرح خواتین کو معیاری ساڑیاں بطور تحفہ دی جائیں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اندرا مہیلا شکتی گروپس کے تحت 67 لاکھ خواتین موجود ہیں۔ حکومت مہیلا گروپس کو مالی طور پر مستحکم کرے گی۔ 600 آر ٹی سی بسوں کے مالکین مہیلا گروپس ہوں گے۔ مہیلا گروپس کو ایک ہزار میگاواٹ کے سولار پاور پلانٹس الاٹ کئے جائیں گے۔ مہیلا گروپس کی تیار کردہ اشیاء کی مارکٹنگ کے لئے حکومت مدد کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ شہری اور دیہی علاقوں کی تمیز کے بغیر تلنگانہ حکومت خواتین کی ترقی کے اقدامات کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں مہیلا گروپس کو نظرانداز کردیا گیا تھا لیکن کانگریس حکومت نے مہیلا گروپس کی خواتین کو معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ وزیر پنچایت راج ڈی انوسویا سیتکا اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا اِس موقع پر موجود تھیں۔ 1