نئی دہلی: 29 اکٹوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو حکومت سے سوال کیا کہ 100 فیصد ایتھنول والے ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کس طرح یقینی بنائی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے اسی ہفتے فلیکس فیول گاڑیوں میں ای 100 ایندھن کے استعمال کی اجازت دینے کے لیے قواعد میں ترمیم کی ہے۔ تاہم، حکومت کا فی الحال پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کو موجودہ 20 فیصد سے آگے بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے ایتھنول سپلائی سال 2025-26 کے لیے ایتھنول کی تقسیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ سوال اٹھایا۔بنچ نے ای 100 ایندھن کی منظوری سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر 100 فیصد ایتھنول سے چلنے والی گاڑیوں کی اجازت دے دی گئی ہے تو انہیں ایندھن کیسے فراہم کیا جائے گا؟‘‘ اس پر اٹارنی جنرل آر وینکٹ رامانی نے کہا کہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے نظام میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے 26 اکتوبر کو مرکزی موٹر وہیکل قواعد 1989 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت ای 100، یعنی تقریباً خالص ایتھنول سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی قواعد میں شامل کیا گیا ہے۔