اے پی : ڈی ایس سی اعلامیہ پر ہائی کورٹ کا اعتراض

   

آج کی سماعت میں اہم فیصلہ کا امکان
حیدرآباد۔/20 فروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے ایس جی ٹی جائیدادوں کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو اجازت پر اعتراض جتایا ہے۔ ہائی کورٹ نے سریش اور دیگر امیدواروں کی درخواست کی سماعت کرکے حکومت سے سوال کیا کہ قواعد کے برخلاف ڈی ایس سی نوٹیفکیشن کس طرح جاری کیا گیا۔ ایس جی ٹی جائیدادوں پر تقررات کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو اہل قرار دینا سپریم کورٹ قواعد کے خلاف ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے سپریم کورٹ فیصلہ سے ہائی کورٹ کو واقف کرایا۔ حکومت کے فیصلہ سے ڈی ایڈ امیدواروں سے ناانصافی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ این سی ای آر ٹی قواعد کی خلاف ورزی کرکے حکومت تقررات کررہی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سری رام نے عدالت کو بتایا کہ ایس جی ٹی امیدواروں کی تعداد کم ہونے پر بی ایڈ امیدواروں کو اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیت والے بی ایڈ امیدواروں کو دو سالہ برج کورس کی تکمیل کے بعد تدریس کی اجازت دی جائے گی۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ سپریم کے قواعد کے برخلاف اعلامیہ کس طرح جاری کیا گیا۔ عدالت نے برج کورس کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کیا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کے موقف کی وضاحت کیلئے عدالت سے وقت مانگا۔ درخواست گذار کے وکیلوں نے بتایا کہ 23 فروری سے امیدواروں کو ہال ٹکٹ جاری کئے جارہے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ ہال ٹکٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں عدالت ضروری احکامات جاری کرے گی۔ ایڈوکیٹ جنرل کی درخواست پر آئندہ سماعت چہارشنبہ کو مقرر کی گئی ہے۔1