واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کی جانب سے اگست 2021 میں افغانستان سے تباہ کن امریکی انخلاء کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے تسلسل میں ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’بائیڈن ہیریس انتظامیہ افغانستان میں ہمارے فوجیوں کی حفاظت میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے اس ناکام انخلا کی وجہ سے اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر واپسی کی بدانتظامی کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے۔ قبل ازیں ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیکل میکول نے افغانستان سے انخلا اور اس کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کے بارے میں کمیٹی کی تحقیقات کے بارے میں اکثریتی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں کملا ہیریس (ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار) پر تمام امریکی افواج کو واپس بلانے کیلئے پردے کے پیچھے بائیڈن کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام لگایا گیا۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق ریپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مہم صدارتی انتخابات سے قبل آخری ہفتوں میں افغانستان سے انخلا سے متعلق فیصلوں کو ایک بڑا مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔رپورٹ میں ریپبلکن نمائندوں نے اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کے اہلکاروں کے فیصلوں پر روشنی ڈالی۔ ڈیموکریٹس نے ایک میمو میں دعویٰ کیا کہ ریپبلکن پارٹی حقائق سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ واضح رہے سیکریٹری آف اسٹیٹ بلنکن گزشتہ برسوں میں پارلیمانی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے اس مشکل معاملے کی گواہی دینے کیلئے ایک سے زیادہ بار پیش ہو چکے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 19 ستمبر کو ایک اور سماعت میں بھی پیش ہوں گے۔
آسٹریلیا میں نابالغوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی زیرغور
کینبرا: آسٹریلیائی حکومت نے ایک خاص عمر تک پہنچنے سے پہلے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی ہے۔ ابھی عمر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ حد چودہ سے سولہ برس کے درمیان تک ہو سکتی ہے۔آسٹریلیا نے دماغی اور جسمانی صحت سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کیلئے کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے کا ارادہ کیا ظاہر کیا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل حقوق کے حامیوں کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے اس بات کی تنبیہ کی ہے کہ اس طرح کے اقدام سے خفیہ قسم کی خطرناک آن لائن سرگرمیاں شروع ہو سکتی ہے۔
لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم کے استعمال سے نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے عمر کی حد متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البنیز کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سوشل میڈیا کیلئے کم از کم عمر سے متعلق قوانین متعارف کرانے سے پہلے اسی برس عمر کی تصدیق کا ٹرائل شروع کرنے کا ایک سلسلہ شروع کرنے والی ہے۔حکومت نے ابھی تک عمر کی پوری طرح سے وضاحت نہیں کی ہے، تاہم وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ 14 اور 16 برس کے درمیان تک ہو سکتی ہے، یعنی اس سے کم عمر کے بچوں پر سوشل میڈ?ا کے استعمال کی پابندی عائد ہو گی۔