تل ابیب: اسرائیل نے حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کو 2006 میں پارٹی کے ساتھ اپنی جنگ میں تین بار مارنے کی کوشش کی اور ایک فضائی حملہ ناکام ہوا کیونکہ حزب اللہ کا رہنما نشانہ بنانے سے کچھ دیر پہلے ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔ فینانشل ٹائمز کے مطابق قاتلانہ حملے سے واقف دو افراد کے مطابق دیگر حملے اس کے زیر زمین بنکر کی مضبوطی کو کمزور کرنے میں ناکام رہے۔ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیلی طیارے حسن نصراللہ کو قتل کرنے کی تیاری کر رہے تھے لیکن بائیڈن انتظامیہ نے دباؤ ڈال کر آپریشن روک دیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ جمعہ کی رات اسرائیلی فوج نے حسن نصراللہ کو جنوبی بیروت میں ایک رہائشی کمپلیکس کے نیچے گہرے بنائے گئے بنکر تک پہنچایا۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے 80 تک بم گرائے کہ وہ جاں بحق ہو چکے ہوں۔اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی پراعتماد کارروائیوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سب سے بڑے علاقائی حریفوں میں سے ایک کو مسلسل تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حزب اللہ کے خلاف تقریباً چار دہائیوں کی لڑائی اسرائیل کے حالات کو تبدیل نہیں کرسکی تھی تاہم اب واقعی اسے بڑی کامیابی ملی ہے۔موجودہ اور سابق عہدیداروں نے کہا کہ جو تبدیلی آئی ہے وہ انٹلیجنس کی وہ گہرائی اور معیار ہے جس پر اسرائیل پچھلے دو مہینوں میں بھروسہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اسرائیلی کامیابی کی شروعات 30 جولائی کو حسن نصراللہ کے ایک رہنما فواد شکر کے قتل سے ہوئی۔ اسرائیلی عہدیداروں نے 2006 میں عسکریت پسند گروپ کو ایک مہلک دھچکا لگانے یا حتیٰ کہ حسن نصر اللہ سمیت اس کی اعلیٰ قیادت کو ختم کرنے میں ناکامی کے بعد حزب اللہ پر اسرائیلی انٹیلی جنس جمع کرنے کی کوششوں کی ایک وسیع ری ڈائریکشن کو بیان کیا۔ اگلی دو دہائیوں کے دوران اسرائیل کے 8200 ویں جدید انٹلیجنس یونٹ، ملٹری انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ، جسے AMAN کہا جاتا ہے، نے اسرائیل کے “شمالی میدان” میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ملیشیاؤں کا نقشہ بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر ڈیٹا کو جمع کرنا شروع کیا۔ایک سابق انٹیلی جنس افسر میری ایزن نے بتایا کہ اس کیلئے اسرائیل کے حزب اللہ کو دیکھنے کے انداز میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت تھی۔