بائیڈن کی میعاد میں غزہ جنگ بندی کا امکان نہیں: رپورٹ

   

واشنگٹن: وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو اطلاع دی کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ جنوری میں صدر جو بائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے قبل ممکن نہیں۔اخبار نے وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ اور پینٹگان کے اعلیٰ سطحی اہلکاروں کا نام لیے بغیر حوالہ دیا۔ ان اداروں نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔پینٹگان کی ترجمان سبرینا سنگھ نے رپورٹ شائع ہونے سے قبل جمعرات کو صحافیوں کو بتایاکہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ معاہدہ ٹوٹ رہا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر 90 فیصد اتفاق ہو گیا تھا۔امریکہ اور ثالثین قطر اور مصر کئی مہینوں سے جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن اسرائیل اور حماس کو حتمی معاہدے تک لانے میں ناکام رہے ہیں۔دو رکاوٹیں خاص طور پر مشکل رہی ہیں: اسرائیل کا غزہ اور مصر کے درمیان فلاڈیلفی راہداری میں افواج برقرار رکھنے کا مطالبہ اور اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں میں تبادلے کی تفصیلات۔ لبنان کے طول و عرض میں دو روزہ اسرائیلی حملوں سے بھی معاہدے کے امکانات کو دھچکا لگا ہے اور ایک مکمل جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔امریکہ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ شرقِ اوسط میں تناؤ کو کم کر سکتا ہے۔
ترکیہ سے یورپ میں پناہ کی 28 ہزار درخواستیں
انقرہ: اگرچہ ترک شہریوں کی جانب سے یورپی یونین کے ممالک میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد لاطینی امریکی ممالک، شام اور افغانستان کے بعد پانچویں نمبر پر آ گئی ہے، تاہم اس ہفتے یورپی ایجنسی برائے پناہ گزین کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ترکیہ سے آنے والے اور اس کی شہریت رکھنے والے پناہ گزینوں کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔یورپی اسائلم ایجنسی کی جانب سے چہارشنبہ کو جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال 2024 کی پہلی ششماہی کے دوران ترک شہریت رکھنے والے شہریوں کی جانب سے جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد 28000 سے زائد ہو گئی ہے۔