مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حرکت سے ہندو مسلم اتحاد کو ٹھیس پہونچے گی :اقلیتی کمیشن
نئی دہلی ۔ /24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد اراضی ملکیت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو چیالنج کرتے ہوئے داخل کی جانے والی درخواست نظرثانی کو مسلمانوں کے مفادات میں بہتر نہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے قومی اقلیتی کمیشن کے چیرپرسن غیورالحسن رضوی نے کہا کہ اس سے ہندو مسلم اتحاد کو نقصان پہونچے گا ۔ اقلیتی کمیشن کے چیرمین نے مزید کہا کہ درخواست نظرثانی سے ہندوؤں کو یہ پیام جائے گا کہ مسلمان رام مندر کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایودھیا میں 5 ایکر کی متبادل اراضی قبول کرلیں اور عدلیہ کے فیصلہ کا احترام کریں ۔ ایک انٹرویو میں رضوی نے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اجلاس منعقدکیا اور تمام ارکان نے بیک آواز ہوکر کہا کہ ہمیں فیصلہ کا احترام کرنا چاہیے ۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیرپرسن نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے مدد کریں اور ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ مسجد کی تعمیر میں حصہ لیں ۔ اس سے ملک میں دونوں طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بھائی چارہ بڑھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ العلماء ہند کے بشمول تمام گوشوں سے درخواست نظرثانی داخل نہیں کی جانی چاہیے ۔ کیونکہ مسلم گروپوں نے ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے قبول کریں گے ۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ العلماء ہند جیسے مسلم اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدہ سے منحرف نہ ہوں ۔ اس ملک کا عام مسلمان بھی درخواست نظرثانی کے حق میں نہیں ہے ۔