اڈوانی، جوشی اور دیگر کو عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت
لکھنؤ: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے تقریبا 27سال بعد 30ستمبر کو اس ضمن میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔سی بی آئی کے اسپیشل جج ایس کے یادو نے حکم دیا ہے کہ 30ستمبر کو فیصلہ آنے کے وقت سبھی ملزمین عدالت میں موجود رہیں۔ اس معاملے میں سابق نائب وزئر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق گورنر کلیان سنگھ، بی جے پی لیڈر ونے کٹیار،سابق وزیر اوما بھارتی ملزمین کے نام قابل ذکر ہے ۔سی بی آئی نے 49ملزمین کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی جس میں سے 17افراد کی موت ہوچکی ہے ۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں 351گواہوں اور تقریبا 600 دستاویزات ثبوت کے طور پر پیش کئے جاچکے ہیں۔ سی بی آئی کے وکیل للت سنگھ نے بتایا کہ عدالت نے فریق دفاع اور استغاثہ کی دلیلیں سننے کے بعد ایک ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ مہینے لکھنؤ میں بابری مسجد انہدام کے معاملے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے وقت مقررہ میں ایک ماہ کا اضافہ کرتے ہوئے فیصلے کی حتمی تاریخ 30ستمبر تک کردیا تھا۔ اس قبل منگل کو عدالت کے سامنے مدعی علیہ کی طرف سے سینئر وکیل مردل راکیش نے ذاتی طور پر عدالت میں موجود رہ کر اپنی زبانی بحث مکمل کی جبکہ سینئر وکیل آئی بی سنگھ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اپنے موکل آر این سریواستو کی طرف سے بحث کی ۔