بازار کھل گئے ، گراہک کی قلت ، عید کے بعد ہی تجارت کا فیصلہ،دکانات کی صاف صفائی پر توجہ ،

   

Ferty9 Clinic

علماء کی اپیل کے بعد منصوبہ بندی
حیدرآباد۔21مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں بازار کھول دیئے گئے ہیں لیکن بازاروں میں گاہک موجود نہیں ہیں اور نہ ہی دکانداربازاروں کے کھول دیئے جانے سے مطمئن ہیں کیونکہ حکومت کے اس فیصلہ کے باوجود شہریوں کی جانب سے سنجیدگی کا ثبوت فراہم کئے جانے کے سبب تاجرین کی امیدوں پر پانی پھرنے لگا ہے لیکن اس کے باوجود ہر کے چند بازارو ںمیں تاجرین کی جانب سے دکانات کھولی جا رہی ہیں جبکہ شہر کے تجارتی اداروںکے ذمہ داروں کا کہناہے کہ اب تجارت کے آغاز کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ عید الفطر کے بعد ہی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے کیونکہ اب تجارتی سرگرمیو ںکو شروع کرنے کیلئے صاف صفائی کے علاوہ دیگر امور کی انجام دہی کے لئے کم از کم 48 گھنٹے درکار ہیں اور ان حالات میں جب کہ علماء اکرام ‘ عمائدین ملت اور ذمہ داران ملت اسلامیہ کی جانب سے عید سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کی جا رہی ہے تو بازارو ں پر اس کے منفی اثرات ہوں گے اور ایسے میں تجارتی سرگرمیوں کو شروع کرنا کوئی فائدہ مند نہیں بلکہ نقصاندہ ہی ثابت ہوگا اسی لئے تجارتی برادری کے ایک گوشہ کی جانب سے عید الفطر کے بعد ہی باضابطہ تجارت کا آغاز کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔عید سے قبل حکومت کی جانب سے تجارتی اداروں کی کشادگی کے متعلق فیصلہ پر کی جانے والی تنقیدوں کو دیکھتے ہوئے تاجرین کی جانب سے بھی مسئلہ کی حساسیت کا اندازہ کیاجانے لگا ہے ۔نصف بازار کی ایک دن کے وقفہ سے کشادگی کے فیصلہ کے بعد شہر کے بازاروں میں دکانیں تو کھولی جانے لگی ہیں لیکن دکانوں میں گاہک نہیں ہیں جس کے سبب تاجرین بھی یہ فیصلہ کرنے لگے ہیں کہ اب مکمل کاروبار کا آغاز عید الفطر کے بعد ہی کیا جائے گا۔