زیورات میں جھمکے صدیوں سے پہنے جارہے ہیں،تقسیم ہند سے پہلے اور بعد میں حتیٰ کہ ان دنوں بھی یہ زیور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ جب گرانی نہیں بڑھی تھی تو سونے اور ہیروں کے جڑاؤ جھمکے پہنے جاتے تھے پھر مختلف دھاتوں سے تیار کردہ جھمکے ہر خاص وعام پہننے لگا۔کبھی یہ راجہ مہاراجاؤں کی بیگمات اور شہزادیوں کا من بھاتازیور تھا جس میں قیمتی پتھر،اصلی موتی اور ہیرے جڑائے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ رہن سہن اور تہذیب بدل گئی۔سونے کے جھمکے شادی بیاہ کے زیور میں اب بھی شامل کئے جاتے ہیں۔دلہنوں پر یہ خوب جچتے ہیں گوکہ ماڈرن لڑکیاں لاکھ جدید طرز کی مصری ،ترکی یا برصغیر جیویلری خریدیں اور خاص دن کے موقع پر اسے پہنیں لیکن دیکھا جارہا ہے کہ ایک آدھ جھمکوں کی جوڑی بھی لیتی ضرور ہیں۔ بہت سے گھرانوں میں نانیوں ،دادیوں یا ماں کے زیور اس خاص دن کیلئے رکھے جاتے ہیں اور پوتی یا نواسی کی شادی ہو یا پہلے پوتے کی دلہن کو منہ دکھائی کی رسم میں دینا ہوں یہ جھمکے کا سیٹ بہت کام آتاہے۔ زیورات کیلئے بھی یہی چلن دیکھا گیا ہے کہ فیشن لوٹ کے آتاہے۔کوئی ڈیزائن کچھ عرصے کیلئے پس پشت ضرور چلاجاتاہے مگر پھرلوٹ کے آتاہے اور اسے نئی نسل ایک بار پھر اپنا کر مشہور کر دیتی ہے۔جھمکے بھی اسی طرح کبھی فیشن سے باہر یا متروک نہیں سمجھے گئے بلکہ اب تو نئی نئی اختراعات کے ساتھ مقبول ہورہے ہیں۔ آپ کے چہرے کی ساخت خواہ کیسی ہی ہو اور رنگت بھی جیسی ہو اگر آپ نے خوشی کی تقریبات کیلئے موزوں لباس اور جیویلری کا انتخاب کر لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ جندے آفتاب چندے ماہتاب نہ نظر آئیں ۔ مارکیٹ میں مختلف انداز کی چاند بالیاں دستیاب ہیں۔جنہیں مختلف تقریبات کے حساب سے پہنا جا سکتاہے۔ذیل میں مختلف ساخت اور ڈیزائنز والی بالیوں کی تفصیل درج کی جارہی ہے ، اب دیکھئے کہ آپ کی شخصیت یا لباس کی ساتھ کس طرح کی بالیاں مناسب رہتی ہیں۔
مینا کاری والی بالیاں : یہ بھاری بھر کم زیور نہیں اور نوجوان خاص کر غیر شادی شدہ لڑکیوں پر خوب جچنے والی بالیاں ہیں۔کندن اور مینا کاری والی چاند بالیوں کے ساتھ اگر تین لڑیوں والا ہار پہن لیا جائے تو آپ کا سنگھار آدھا تو سمجھئے ہو ہی گیا۔ یہ بالیاں آپ کو نفیس ظاہر کرتی ہیں۔
لیئرز والی بالیاں : اس انداز کی چاند بالیاں مختلف لیئرز کی صورت میں بنائی جاتی ہیں یعنی تہہ درتہہ چاند کی ساخت میں بنائی گئی ان بالیوں میں مختلف رنگوں یا ایک ہی رنگ کے موتی اور نگینے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ کامدار ہی نہیں سادے سوٹ کی ساتھ بھی جاذب نظر معلوم ہوتی ہیں۔
جال والی بالیاں : اگر آپ گلے میں کچھ نہیں پہننا چاہتیں تو کانوں کے آویزوں پر دھیان دیجئے۔سنہری یارو پہلی کسی بھی رنگ میں جال والی چاند بالیاں بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں۔کچھ خواتین صرف سنہری بھی گولڈن کلر ہی پسند کرتی ہیں تو آپ یہی پہنئے کیونکہ اس طرح میچنگ کا مسئلہ نہیں رہتا۔
ملٹی کلر چاند بالیاں : یہ نورتن انداز میں بنائی گئی بالیاں ہیں جنہیں پنج رنگی بھی کہا جاتاہے۔دیکھنے میں خاصی پر کشش لگتی ہیں۔پانچ رنگوں میں سرخ ،زردی مائل ،پیلا ،نیلا ،جامنی خاکی یا ہرے رنگ کی موتی لگائے جاتے ہیں۔آپ چاہیں تو اسی طرح کا چوکر نیکلس بھی لے سکتی ہیں۔یہ چاند بالی سیٹ بہت خوبصورت لگتے ہیں۔
کندن سفید موتی چاند بالی : یہ خواتین میں قدرے مقبول بالیاں ہیں۔ یہ سائز میں بڑی مگر عموماً وزن دار یعنی بھاری نہیں ہوتیں۔سفید موتی اور کندن اسٹائل سے تیار کردہ یہ چاند بالیاں ماتھے پر لگے ٹیکے کی وجہ سے بھی حسین نظر آتی ہیں۔
جھمکیوں والی چاند بالیاں : ان بالوں کے گرد چھوٹی چھوٹی جھمکیاں بہت دل آویزی سے بنائی جاتی ہیں اور جھمکوں کے نچلے حصے پر موتی لٹکتے بہت خوب لگتے ہیں۔یہ روایتی ملبوسات کے ساتھ مشرقی سج دھج کا حسین تصور بھی پیش کرتی ہیں۔
حیدر آبادی جھمکے ،موتیوں بھرے : ان میں سفید موتی جڑے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے میں نہایت دلکش معلوم ہوتے ہیں۔کچھ جھمکوں میں ایک موتی لٹکایا جاتاہے اور کسی ڈیزائن میں ایک سے زائد چھوٹے موتی لگادئیے جاتے ہیں۔ ان جھمکوں کو انار کلی فراکس،میکسی،شلوار قمیض یا شرارے وغیرہ کے ساتھ بھی پہنا جا سکتا ہے۔یہ زیور تو کپڑوں کی بھی چھب بڑھا دے گا۔
Oxidizalجھمکیاں : یہ بھی ان دنوں بہت پسند کی جارہی ہیں۔چاندی اور دوسری دھاتوں میں یہ قدرے وزنی محسوس ہوں گی۔ان میں تھوڑی سی سیاہی مائل رنگت اصل میں ان کی جاذبیت بڑھاتی ہے۔یہ سلور رنگ میں ہوتی ہیں اور اسے سیفائر ، روبی یا زمرد کے رنگ کے نگینوں سے بھی آراستہ کیا جاتاہے۔ بہت سے لباس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا یہ روایتی زیور آپ کو پر اعتماد ظاہر کرتاہے اور آپ کی شخصیت نکھری نکھری سی نظر آتی ہے۔