رنگ اور نسل ذات اور مذہب جو بھی ہو آدمی سے کمتر ہے
اِس حقیقت کو تم بھی میری طرح مان جاؤ تو کوئی بات بنے
ویسے تو ہندوستان میں گذشتہ چند برسوں میں زندگی کے ہر شعبہ میں فرقہ پرستی نے اپنا اثر دکھایا ہے ۔ کئی گوشوں نے اپنے اصل چہرہ کو بے نقاب کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ایجنڈہ آگے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیںرکھی ہے ۔ مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ مدھیہ پردیش ہو یا راجستھان ہو ‘ اترپردیش ہو یا پھر آسام ہو حکومتوں کی جانب سے خود ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں ملک کی اقلیتیں گھٹن محسوس کرنے لگی ہیں۔ کہیں مسلمانوں کی جائیداد و املاک کو کسی نہ کسی بہانے سے ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے تو کہیں انہیں پاکستان چلے جانے کی دھمکی دی جا رہی ہے ۔ کہیں ان کے کاروبار اور تجارت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں ان کے دینی مدارس فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں چبھنے لگے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر شعبہ حیات میں فرقہ پرستی کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ بنگلورو سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی و مصنفہ گوری لنکیش کے قتل کیس کا ملزم بھی جالنہ میونسپل کونسل انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوار کامیابی حاصل کرلیتا ہے ۔ اب بتدریج بالی ووڈ کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے مایہ ناز موسیقار اے آر رحمن نے ایک تبصرہ کیا کہ گذشتہ چند دنوں میں انہیں کام بہت کم ملنے لگا ہے اور شائد یہ فرقہ پرستی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ انہوں نے کوئی دعوی نہیں کیا تھا تاہم ایک شبہ ضرور ظاہر کیا تھا ۔ اب کئی گوشوں کی جانب سے اے آر رحمن کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جاوید اختر جیسے افراد بھی اب اے آر رحمن کی رائے کو مسترد کرنے لگے ہیں اور ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ درست ہے کہ کوئی ان کی رائے سے اتفاق کرے چاہے نہ کرے لیکن یہ حقیقت ضرور قبول کی جانی چاہئے کہ فرقہ پرستوں کیلئے اب بالی ووڈ بھی نشانہ بن گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہاں بھی صرف ایک سوچ اور مذہب کو مسلط کیا جائے اور عوام کی پسند و نا پسند کی ان گوشوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ فرقہ پرست عناصر صرف ایک سوچ کے ساتھ کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔
گذشتہ کچھ برسوں کے دوران وقفہ وقفہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ ملک کے تینوں سوپر اسٹارس شاہ رخ خان ‘ سلمان خان اور عامر خان کو بھی کسی نہ کسی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں ملک کے غدار تک قرار دینے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ عامر خان نے اپنی اہلیہ کے ملک چھوڑنے سے متعلق تبصرہ کا کہیں ذکر کیا تو انہیں نشانہ بنایا گیا ۔ شاہ رخ خان کی کسی فلم میں ایک مخصوص رنگ کا تذکرہ کیا گیا تو اس پر بھی فلم کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی گئیں۔ سلمان خان کو بھی وقفہ وقفہ سے نشانہ بناتے ہوئے غدار یا کچھ اور قرار دینے سے گریز نہیں کیا جا تا ۔ جہاں تک تینوں ہی خان اسٹارس کا سوال ہے تو انہوں نے ہندوستانی فلمی صنعت کو دنیا بھر میں ایک معتبر مقام دلانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ فلمی ستارے کسی ایک مذہب یا مخصوص طبقہ سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ ملک کے نمائندے ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس کا نام روشن کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان اداکاروں کو کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے ۔ اس کے باوجود انہیں غدار قرار دینا یا پھر ان کی فلموں کے بائیکاٹ کی اپیل کرنا ایک منفی اور بیمار سوچ و ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ صورتحال اب زیادہ شدت اختیار کرنے لگی ہے ۔ کئی گوشے اپنے آپ کو ماورائے قانون اتھاریٹی سمجھتے ہوئے دوسروں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف حکومتیں یا نفاذ قانون کی ایجنسیاں کوئی کارروائی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں۔
بات صر ف اے آر رحمن کی یا صرف شاہ رخ خان ‘ عامر خان یا سلمان خان کی نہیں ہے ۔ بات ساری فلمی صنعت کی ہے ۔ فلمی صنعت میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن کے ذریعہ گنگا ۔ جمنی تہذیب کو فروغ حاصل ہوا ہو ۔ کئی فلمی ستارے ایسے ہیں جو دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے اسٹارس سے قریبی اور گہرے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور اس کا کھل کر اظہار بھی کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فلموں یا بالی ووڈ کو بھی فرقہ پرستی کا مرکز نہ بنایا جائے ۔ مذہب کو شخصیت تک محدود رکھتے ہوئے عوام کیلئے تفریح فراہم کرنے اور دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے کا جو سلسلہ ہے اسے برقرار رہنے دیا جائے ۔