دونوں کے درمیان صحت مندانہ مسابقت ، مقدس رشتہ کے لیے رول ماڈل بن گیا
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : باپ اور بیٹے نے گروپ I پریلمنری امتحان میں ایک ساتھ کوالیفائی کرتے ہوئے دوسروں کے لیے مثالی نمونہ بن گئے ہیں ۔ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ روزنامہ سیاست نے آج سے ایک ماہ قبل 17 دسمبر کو ضلع کھمم کی ایسی ماں بیٹی کے مثالی کارنامہ کو قارئین کے سامنے پیش کیا تھا جنہوں نے پولیس تقررات میں ایس آئی کے پریلمنری امتحان میں ایک ساتھ کوالیفائی کیا تھا ۔ آج ضلع یادادری بھونگیر کا ایک تازہ ترین واقعہ پیش کررہے ہیں جہاں باپ اور بیٹے نے گروپ I پریلمنری امتحان میں ایک ساتھ کوالیفائی کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق راماجی پیٹ گاؤں کے سابق سرپنچ ایل آئی سی کے ملازم 48 سالہ اے بال نرسیا ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے فرزند 22 سالہ سچن نے ڈگری کی تعلیم مکمل کی اور سیولس کی تیاری کررہا ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں بال نرسیا ایک مرتبہ گروپ I امتحان تحریر کیا تھا تب انہوں نے پریلمنری کے لیے بھی کوالیفائی نہیں ہوئے تھے تب تلنگانہ کی تحریک عروج پر تھی ۔ وہ تحریک کا حصہ بن گئے ۔ اس کے بعد سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور گاوں کے سرپنچ منتخب ہوگئے ۔ حکومت نے اس مرتبہ گروپ I امتحانات کے لیے حد عمر میں 10 سال کا اضافہ کیا جنرل امیدواروں کی عمر میں 34 سال بڑھاکر 44 سال تک اضافہ کیا ساتھ ہی ایس سی ۔ ایس ٹی ۔ بی سی اور ای ڈبلیو ایس زمرہ کے لیے مزید 5 سال کی توسیع دی ۔ جس پر بال نرسیا نے اپنے بیٹے کے ساتھ گروپ I امتحانات کے لیے درخواست داخل کیا اور پریلمنری امتحان میں شرکت بھی کی ۔ حال ہی میں تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن نے نتائج جاری کیا جس میں دونوں باپ بیٹے نے کوالیفائی ہوئے ۔ آئے دن معاشرے میں کئی ایسے واقعات منظر عام پر جس سے مہذیب سماج کا سر شرم سے جھک جارہا ہے ۔ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جس سے فخر بھی محسوس ہورہا ہے ۔ یقینا ماں کی عظمت لاجواب ہے ۔ مگر گھر کی ذمہ داریوں کے لیے باپ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہے جو اپنے بچوں کی خوشحالی اور ان کے زندگیوں کو سنوارنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیتا ہے ۔ مگر کبھی ’ اُف ‘ تک بھی نہیں کہتا بلکہ اپنی سارے ارمانوں کا گلا گھوٹتے ہوئے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے دن رات کام کرتا ہے ۔ بال نرسیا نے کہا کہ وہ اپنے فرزند کے خوابوں کی تعبیر کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے خود بھی گروپ I کا امتحان تحریر کیا اور بیٹے کے اندر مسابقتی جذبہ پیدا کرنے کے لیے جم کر تیاری کی تاکہ ان کا فرزند ان سے زیادہ محنت کرسکے ۔ وہ روزانہ اخبارات کا بڑی پابندی سے مطالعہ کیا کرتا تھا اور ساتھ ہی یوٹیوب میں دستیاب گروپ I کے مضامین پر مشتمل ویڈیوز دیکھا کرتا تھا ۔ اس طرح گھر میں دونوں باپ بیٹے کے درمیان مسابقت ہوئی اور دونوں نے پریلمنری امتحان میں کوالیفائی کیا ہے ۔۔ ن