ہم تو پروردۂ تلاطم ہیں
مشکلیں ہیں سفینے والوں کی
بجرنگ دل ‘ ہتھیاروں کا استعمال
ملک بھر میں ایسا لگتا ہے کہ کچھ مخصوص تنظیموں کو قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کا لائسنس دیدیا گیا ہے ۔ یہ تنظیمیں اپنی من مانی کرتی نظر آتی ہیں۔قانون کو نہ صرف اپنے ہاتھ میں لیتی ہیں بلکہ قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جاتی ہیں۔ کبھی گاو کشی کے نام پر کسی کا قتل کیا جاتا ہے تو کسی کو محض گوشت منتقل کرنے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میںنفاذ قانون کی ایجنسیاں اور پولیس پوری طرح سے ناکام ہوتی ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تنظیموں کے شر پسند عناصر کو پولیس بچانے کے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے ۔ قانون کے داو پیچ کو استعمال کرتے ہوئے ملزمین کوسزائیں دلانے کی بجائے انہیں بچانے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ کہیں اقلیتی نوجوانوںکو مار پیٹ اور حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو حملہ آوروں سے زیادہ سنگین دفعات میںمتاثرین کے خلاف مقدمات در ج کئے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ملک کی کسی ایک ریاست میں نہیں ہے بلکہ تقریبا ہر ریاست میں ایسا ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ تازہ ترین واقعہ کرناٹک کا ہے جہاں پیران واڑی میں بجرنگ دل کی جانب سے ایودھیا پوجا کے موقع پر بجرنگ دل کی جانب سے ایک جلوس نکالا گیا ۔ اس جلوس میںسینکڑوں افراد نے کھلے ہتھیاروں کے ساتھ مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے ۔ ہتھیاروں کا یہ مظاہرہ در اصل اقلیتی طبقات کو خوفزدہ کرنے اور ان میںڈر و خوف پیدا کرنے کی ایک کوشش ہوسکتا ہے ۔ ہندوستان میں عام افراد کے پاس ہتھیار رکھنا اور ان کی نمائش کرنا غیر قانونی عمل ہے ۔ کسی عام شخص کے پاس سے کوئی معمولی سا بھی ہتھیار ضبط ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے ۔ سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے انہیںجیل بھیج دیا جاتا ہے تاہم اب کرناٹک میںسینکڑوںافراد نے انتہائی مہلک اورتیز دھاری ہتھیاروں کے ساتھ جلوس نکالا لیکن پولیس کی جانب سے ابھی تک ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیںکی گئی ۔ قانون کی دھجیاںاڑنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے ان کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔
ملک بھر میں قتل و غارت گری کے جتنے واقعات پیش آئے ہیں ان میں حکومت اور پولیس اور دیگرنفاذ قانون کی ایجنسیوں کی جانب سے ملزمین کو بچانے پر زیادہ توجہ دی گئی ۔ بالواسطہ طور پر ان کی ہر ممکن مدد کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کی دھجیاںاڑانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے حکومتیں اور پولیس وغیرہ انہیں بچانے کی کوشش کرتی ہیں جس کے نتیجہ میںان کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں۔ بعض معاملات میں تو دیکھا گیا ہے کہ ملزمین کی ضمانتوں پر جیلوںسے رہائی کے بعد انہیں تہنیت پیش کی گئی ۔ مرکزی وزراء نے بھی ملزمین کی گلپوشی کرتے ہوئے انہیںشاباشی دی ہے ۔ ایسے واقعات کے نتیجہ ہی میں ملک میں امن و امان کی فضاء متاثر ہوئی ہے ۔ کئی گوشوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی اور دھجیاںاڑانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے واقعات پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ قانون میںایسے واقعات کیلئے جو سخت دفعات ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے جس کے نتیجہ میںقانون سے کھلواڑ ہوتا جا رہا ہے ۔ پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو اس معاملے میںمکمل فرض شناسی کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے ۔
فرقہ وارانہ ذہنیت اور متعصب سوچ و فکر رکھنے والے عناصر کو مسلسل کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ ایسا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ جو لوگ ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مظاہرے کرتے ہوئے دوسرے طبقات میںخوف و ہراس پیدا کر رہے ہیںان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوسرے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے ۔ پولیس اورنفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں کو سیاسی اثر و رسوخ اور دباو میںکام کرنے کی بجائے اپنی فرض شناسی کامظاہرہ کرنا چاہئے ۔ ان عناصر کی سرکوبی کی جانی چاہئے جو قانون کی دھجیاںاڑاتے ہیںاور قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میںلگے ہوئے ہیں۔ ایساکرتے ہوئے ملک میںامن و امان کی فضاء کوبرقرار رکھا جانا چاہئے ۔
