پنجاب میں امریندر کی نئی پارٹی

   

Ferty9 Clinic

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اُسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا
چیف منسٹر پنجاب کی حیثیت سے استعفی پیش کرنے کے بعد کیپٹن امریندر سنگھ سیاسی اعتبار سے بہت زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ اب یہ واضح اشارے مل رہے ہیں کہ وہ پنجاب میں نئی علاقائی جماعت قائم کریں گے ۔ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیلئے وہ بی جے پی اور اکالی دل کے گروپس کے ساتھ اتحاد بھی کریں گے ۔ وہ عملا کانگریس سے دور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو مخالف جماعت کی طرح سے تنقیدوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تیز تر کردیا ہے ۔ امریندر سنگھ نے چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفی پیش کرنے کے بعد دہلی پہونچ کر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی تھی ۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ ملاقات کوئی سیاسی نوعیت کی نہیں تھی حالانکہ اسی وقت یہ اشارے مل رہے تھے کہ وہ بی جے پی میں شامل بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کا امکان مسترد کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کے اشارے دئے ہیں۔ ان کے سیاسی عزائم بہت زیادہ بلند ہوسکتے ہیں اور وہ کانگریس کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کی کرسی ایک بار پھر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ سیاسی سفر ان کیلئے آسان نہیں ہوسکتا ۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انہیں اس کانگریس کے نظریات کی نفی کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنانا ہوگا جس سے وہ چار دہوں سے وابستہ رہے ہیں۔ اسی کانگریس سے وابستگی کی وجہ سے وہ ایک سے زائد مرتبہ ریاست کے چیف منسٹر بھی بنے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بی جے پی سے اتحاد کا جواز بھی ریاست کے عوام کو بتانا آسان نہیں ہوگا جس نے مرکز میں اپنے اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کسانوں کے خلاف ان کی حق تلفی کرنے والے قوانین تیار کئے ہیں۔ مرکزی زرعی قوانین کے خلاف ایک سال سے احتجاج چل رہا ہے اور کانگریس نے ابتداء سے اس مسئلہ پر کسانوں کی حمایت کی ہے ۔ خود کیپٹن امریندر سنگھ نے کسانوں کی تائید میں کئی مظاہروں میں حصہ لیا ۔ ان کے ساتھ سابق کانگریس صدر راہول گاندھی بھی احتجاج میں شامل ہوئے تھے ۔ اب اگر وہ بی جے پی سے اتحاد کرتے ہیں تو انہیں زرعی قوانین پر اپنے موقف کا اظہار کرنا ہوگا ۔
اس کے علاوہ ریاست میں اکالی دل نے ان ہی زرعی قوانین کی وجہ سے مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے اور این ڈی اے سے باہر ہوگئی ہے ۔ اگر امریندر سنگھ اکالی دل سے اتحاد کرتے ہیں تو ان کیلئے بی جے پی سے تعلق برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔ اگر بی جے پی کے ساتھ جاتے ہیں تو زرعی قوانین کا مسئلہ ان کیلئے عوامی تائید کے حصول میں رکاوٹ بنے گا اور اگر اکالی دل جس نے کسانوں کی تائید میں این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کرلی ہے وہ کانگریس سے اتحاد کرتی ہے تو امریندر سنگھ کیلئے مشکلات میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو مستحکم کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ وقفہ وقفہ سے چیف منسٹر دہلی و عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال پنجاب کے دورہ کرتے ہوئے عوام سے مختلف وعدے بھی کرتے جا رہے ہیں۔ عوام میں عام آدمی پارٹی کا امیج بہتر بنانے کیلئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ امریندر سنگھ کانگریس سے دوری کے بعد کانگریس میں کسی اور کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے جتنے ارکان اسمبلی کی تائید حاصل رہنے کا دعوی کیا تھا ان میں ایک نے بھی امریندر سنگھ کے ساتھ کانگریس سے ترک تعلق نہیں کیا ہے ۔ ایسے میں امریندر سنگھ کیلئے سیاسی اعتبار سے اپنی نئی علاقائی جماعت کو استحکام بخشنا اور عوام کی تائید حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ ان کیلئے نظریاتی مسائل سے زیادہ رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے ۔
امریندر سنگھ نئی سیاسی جماعت بنانے کے مقصد سے کانگریس پر مسلسل تنقیدیں کر رہے ہیں لیکن وہ کانگریس پر تنقیدوں کا جواز پیش نہیں کرسکتے کیونکہ وہ چار دہوں سے اس پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور اس کے نظریات کو عوام میں پیش کرتے ہوئے ہی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اگر پنجاب میں اپنی صفوں سے انتشار ختم کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ اتحاد کو یقینی بناتے ہے اور عوام کو اعتماد میں لیتی ہے تو اس کیلئے مسائل پر قابو پانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا ۔ یہ ضرور ہے کہ امریندر سنگھ کا نیا سیاسی سفر اتنا آسان ہونے کے آثار نظر نہیں آتے جتنی خود کیپٹن شائد توقع کر رہے ہیں۔
سو کروڑ ٹیکے ‘ تیسری لہر کے اندیشے
ہندوستان میں حکومت کے دعووں کے مطابق سو کروڑ افراد کو کورونا کے ٹیکے دئے جاچکے ہیں۔ ان میں اکثریت نے پہلی خوراک حاصل کرلی ہے جبکہ کچھ کم تعداد نے دونوں خوراک لئے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹرس اور ماہرین کی جانب سے ایک بار پھر تیسری لہر کے اندیشے بھی ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تہواروں کے سیزن میں ہونے والی بے احتیاطی اور ہجوم جمع ہونے کی وجہ سے ملک میں تیسری لہر پیدا ہوسکتی ہے ۔ یہ اندیشے تشویشناک کہے جاسکتے ہیں۔ ملک بھر میں کچھ مقامات پر کورونا کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہونے لگا ہے اور وہاں بھی مقامی حکام اور میڈیکل شعبہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ عوام کی جانب سے احتیاط نہ برتے جانے کی وجہ سے ہی کیسوں کی تعداد میں معمولی سا اضافہ ہونے لگا ہے ۔ حالانکہ فی الحال یہ اضافہ قابل نظر انداز ہے لیکن عوام کو احتیاط لازمی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک نے کورونا کی دو لہروں کی مار سہی ہے ۔ ملک کا اور ملک کے عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے سبھی کو احتیاط کے تقاضوں کی تکمیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر تہواروں کے سیزن میں لا پرواہی کا مظاہرہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹرس اور ماہرین کے مشوروں کو نظر انداز کئے بغیر حد درجہ احتیاط اختیار کی جانی