تمہیں چشم مخمور پہ ناز کیوں ہے
یہ خواب بہاراں تو ہم دیکھتے ہیں
مرکز کی نریندر مودی حکومت نے آج پارلیمنٹ میں اپنا بجٹ پیش کردیا ۔ وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے بجٹ پیش کیا اور اس بجٹ میں حکومت نے حسب روایت صرف الفاظ اور اعداد و شمار کا الٹ پھیر ہی کیا ہے ۔ اس بجٹ میں عام آدمی کیلئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا ہے ۔ عوام کو جو بنیادی مسائل درپیش ہیں ان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیا گیا ہے ۔ حقیقی معنوں میں عوام کو بے طرح مسائل سے راحت دلانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ اب جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان میں اترپردیش جیسی سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست بھی شامل ہے یہ امید کی جا رہی تھی کہ روزگار اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی منصوبہ پیش کیا جائیگا ۔ عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی سمت میں پہل ہوگی تاہم ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے اور روزگار جیسے اہمیت کے حامل مسئلہ کو بری طرح سے بجٹ میں نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ حکومت نے مختلف شعبہ جات پر توجہ دینے اور انہیں بہتر بنانے کیلئے آئندہ 25 سال کیلئے پروگرام تیار رکھنے کا دعوی کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئندہ 25 سال ملک کا عام آدمی اور غریب آدمی کس مشکل سے گذاریگا اس کا حکومت نے کوئی اندازہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی مشکلات کو دور کرنے کیلئے کسی طرح کی راحت دینے کی سمت کوئی پیشرفت کا منصوبہ بتایا گیا ہے ۔ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والی حکومت نے اب تک کتنے روزگار فراہم کئے گئے ہیں ان کا کوئی ڈاٹا فراہم نہیں کیا ہے ۔ آئندہ برسوں میں روزگار کے شعبہ کو مستحکم کرنے کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کورونا کی دو ہلاکت خیز اور خطرناک لہروں میں کتنے لاکھ یا کروڑ روزگار ختم ہوگئے ہیں۔ آئندہ برسوں میں روزگار کے موقع کم ہونے سے روکنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی خانگی شعبہ کیلئے اس تعلق سے کسی طرح کے رہنما خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ بحیثیت مجموعی آج کا انتہائی اہم ترین مسئلہ روزگار اس بجٹ میں پوری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے ۔
ملک میں افراط زر کی شرح میں ہونے والے اضافہ ‘ جی ڈی پی میں گراوٹ اور پھر مہنگائی کی وجہ سے عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں ان کا بھی بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس استثنی کی حد میںاضافہ کیا جائیگا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ انکم ٹیکس حد کو برقرار رکھا گیا ہے اور عوام کے ایک بڑے طبقہ کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے ۔ عوام کو راحت دینے میں حکومت نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی ۔ کارپوریٹ شعبہ کے مفادات کا خیال رکھنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت نے اس شعبہ پر عائد کئے جانے ٹیکس کی شرح میں کٹوتی کردی ہے ۔ کارپوریٹ شعبہ کے ٹیکس کو 18 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کردیا گیا ہے۔ گذشتہ مہینوں کے دوران یہ صورتحال واضح ہوگئی کہ ملک کے غریب گذشتہ چند برسوں میں مزید غریب ہوئے ہیں اور ملک کے چند مٹھی بھر امیروں کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ امیروں کی فہرست میں ان کے نمبر اور بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے تنخواہ پانے والے یا مڈل کلاس طبقہ کے عوام کو کسی بھی طرح کی راحت دینے سے گریز کیا ہے اور دولت کے انبار جمع کرنے والے کارپوریٹ شعبہ کو ٹیکس میں تین فیصد کی بھاری رعایت فراہم کردی ہے ۔ اس سے حکومت کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے ۔ عوام کے تئیں اور عوام کو درپیش مسائل کے تئیں حکومت کی سنجیدگی کا بھی اس فیصلے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔
اس بجٹ میں بھی حکومت نے عوامی شعبہ کے بینکوں کی حالت کو مزید کمزور کرنے کے اقدامات شامل کئے ہیں۔ پہلے ہی ملک میں عوامی شعبہ کے کئی بینکوں کو ایک دوسرے میں ضم کردیا گیا ہے ۔ اب مزید ڈیجیٹل کرنسی کو شروع کرنے کے منصوبے پیش کئے گئے ہیں جن کے بعد روایتی بینکنگ کے قوانین میں تبدیلی آجائے گی ۔ حالانکہ عالمی مسابقت کے نقطہ نظر سے ایسا کرنا درست ہوسکتا ہے لیکن ملک میں کئی اہم بینکوں جیسے ایس بی آئی ‘ بینک آف بڑودہ ‘ کنارا بینک ‘ یونین بینک ‘ بینک آف انڈیا اور پنجاب نیشنل بینک جیسے بینکس پر اس کا منفی اثر پڑسکتا ہے ۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک مایوس کن اور توقعات کے برعکس بجٹ ہی ہے ۔