قائد اپوزیشن اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں، بی آر ایس قائدین اقتدار کیلئے بے چین
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری(سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ کے سی آر حکومت کی بدعنوانیوں اور حکمرانوں کے غرور اور تکبر پر تلنگانہ عوام نے سبق سکھاتے ہوئے اقتدار سے بیدخل کردیا ہے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے آج سی پی آئی قائدین چاڈا وینکٹ ریڈی اور پی وینکٹ ریڈی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہاکہ قائد اپوزیشن چندر شیکھر راؤ کی اسمبلی اجلاس میں عدم شرکت افسوسناک ہے ۔ عوامی مسائل پر اظہار خیال کیلئے انہیں اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر دراصل چندرا بابو نائیڈو ، جگن موہن ریڈی اور جئے للیتا کی نقل کر رہے ہیں جنہوں نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے والوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو ایسے ارکان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ حکومت میں رہ کر کے سی آر نے ریونت ریڈی کو جس طرح ہراساں کیا تھا، آج وہ اسمبلی میں ان کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کے دوران غرور اور تکبر کے نتیجہ میں عوام نے اقتدار سے محروم کردیا ۔ کالیشورم اور میڈی گڈہ بیاریج کے غیر معیاری کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ پلرس کے غرقاب ہونے کو کے سی آر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقص تعمیرات سے پراجکٹس کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے ۔ بدعنوانیوں کے سلسلہ میں کے سی آر کو عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کو چیف منسٹر کے عہدہ پر ابھی دو ماہ مکمل ہوئے لیکن اقتدار سے محرومی سے بوکھلاہٹ کا شکار بی آر ایس قائدین ابھی سے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہریش راؤ کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا کہ وہ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کیلئے تیار ہیں۔ نارائنا نے کہا کہ بی آر ایس قائدین اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ سی پی آئی قائد نے نئی دہلی میں کسانوں کے احتجاج کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی اور چندرا بابو نائیڈو دونوں نے عوام کو دھوکہ دیا ہے ۔ 1