برآمدات پر امتناع کے باوجود پیاز و ترکاریوں کی اسمگلنگ عروج پر

   

نفع خوری کے لیے کئی سرکردہ تجارتی ادارے بھی ملوث۔ انگور اور آلو کے نام پر کنٹینرس کی روانگی
حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) پیاز کی قیمتوں پر قابو پانے مرکزی حکومت کے اقدامات بیرون ملک پیاز کی قلت پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں اور اس کا فائدہ اسمگلرس اٹھاتے ہوئے پیاز کی اسمگلنگ میں مصروف ہیں۔ مرکزی حکومت سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ پر قابو پانے پیاز کی برآمدات پر پابندی عائد کی ہے ۔ اسمگلرس دوبئی ‘ سری لنکا اور ملیشیاء میں جہاں ہندوستانی پیاز کی مانگ زیادہ ہے اس طلب کو پورا کرنے پیاز سے لدے کنٹینرس کو انگور یا آلو کے کنٹینر کے طور پر روانہ کر رہے ہیں ۔ ہندوستان میں جہاں پیاز کی قیمت 3تا15 روپئے کیلو ہول سیل ہے وہیں سری لنکا اور دوبئی میں پیاز کی ہول سیل قیمت 140 روپئے تک پہنچ چکی ہے اور اضافی قیمت سے فائدہ اٹھانے اسمگلرس نے پیاز کی اسمگلنگ کا آغاز کردیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندوستان سے ہر ہفتہ 700 تا 800 ٹن پیاز برآمدات پر پابندی کے باوجود ان ممالک کو انگور یا آلو کے نام پر روانہ کی جا رہی ہے۔ سال 2022-23کے دوران 2.5 میٹرک ٹن پیاز مختلف ممالک کو برآمد کی گئی تھی جس کی مالیت 522 کروڑ تھی اور 2023-24 میں 1.6میٹرک ٹن پیاز کی برآمد ہوئی جس کی جملہ مالیت 3 ہزار 359 کروڑ تھی ۔حکومت نے 8 ڈسمبر 2023 کو پیاز کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کردی تھی اور اس کے بعد بھی اسمگلرس پیاز کو انگور قرار دیتے ہوئے برآمدات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 28 تا 30 ٹن کے کنٹینر جس میں پیاز بیرون ملک روانہ کی جا رہی ہے ایک کنٹینر سے اسمگلرس کو 30 لاکھ روپئے تک کی آمدنی ہورہی ہے ۔ذرائع کے مطابق ملیشیاء ‘ دوبئی یا سری لنکا ہی نہیں بلکہ نیپال اور دیگر ممالک کو بھی ہندوستانی پیاز روانہ کی جا رہی ہے اور اس پر کسی طرح کا کوئی کنٹرول نہ ہونے سے اسمگلرس کی چاندی ہو رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ان ممالک کو صرف پیاز نہیں بلکہ دیگر ترکاریاں بھی اسمگلرس روانہ کر رہے ہیں اور ان ترکاریوں کی زبردست قیمتیں انہیں بیرون ملک حاصل ہورہی ہیں ۔ اسمگلرس جو اس کاروبار میں ملوث ہیں ان کا کہناہے کہ بیرون ملک انہیں سرکردہ سوپر مارکٹس کی جانب سے ترکاریوں اور پیاز کی ٹھوک قیمتیں حاصل ہورہی ہیں اور جن ممالک میں طلب ہے ان کو پیاز اور ترکاریاں روانہ کی جا رہی ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف ممالک کو پیاز کے علاوہ ترکاریوں کی فراہمی کے اقدامات اور اسمگلنگ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس میں کئی سرکردہ تجارتی ادارہ ملوث ہیں جو کہ غیر ممنوعہ اشیا کے نام پر پیاز روانہ کر رہے ہیں ۔ 3