برازیل میںشادی سے قبل جنسی تعلقات کے خلاف حکومت کی مہم

   

برازیلیہ ۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) آبادی کے حوالے سے لاطینی امریکا کے سب سے بڑے ملک برازیل کی حکومت کو شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے سے نوجوانوں کو روکنے کی مہم شروع کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔برازیلی حکومت نے سخت گیر عیسائی عقائد کے حامل صدر جیئر بولسونورو کی ہدایات پر ملک بھر میں ایک منفرد مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار نہ کریں۔امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق نوجوانوں کو جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنے کی انوکھی مہم کو برازیل کی وزارت خواتین، خاندان و انسانی حقوق نے متعدد سماجی تنظیموں کے ساتھ شروع کیا ہے۔مہم کے تحت ’سیکس کو شادی کے لیے بچا کر رکھیں‘ جیسے نعروں کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اس حوالے سے سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کو بڑے پیمانے پر چلایا جا رہا ہے۔مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ 13 سے 19 سال کے نوجوانوں تک رسائی کرکے انہیں نوعمری میں جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنا ہے۔برازیل کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نو عمر لڑکیاں سب سے زیادہ حاملہ ہوتی ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برازیل میں 1990 میں ہر 1,000 لڑکیوں میں سے 80 نوعمر لڑکیاں حاملہ ہوجاتی تھیں تاہم سال 2000ء کے بعد اس تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں برازیل کے اندر ہر ایک ہزار لڑکیوں میں سے 64 نوعمر لڑکیاں حاملہ ہوئیں اور 2018 میں مجموعی طور پر 44 ہزار کم عمر لڑکیاں حاملہ ہوئیں۔