برطانیہ میں بھی معاشی بحران !

   

Ferty9 Clinic


دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار کی جانے والی برطانوی معیشت بھی ایسا لگتا ہے کہ ان دنوں بحران سے گذر رہی ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے برطانیہ میں معاشی مشکلات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام مشکلات سے پریشان ہیں۔ ان پر معاشی بوجھ میںاضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ان کے اخراجات زندگی میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے وہ خرچ کو کم سے کم کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت سے وہ راحت کی امید رکھتے ہیں لیکن حکومت انہیں ان کی توقعات کے مطابق راحت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے ۔ حکومت کے سامنے بھی ایسا لگتا ہے کہ بہت کم ہی امکانات رہ گئے ہیں جن کی وجہ سے وہ عوام کو راحت پہونچانے میں کامیاب نہیںہوسکی ہے ۔ سابق وزیر اعظم بورس جانسن کی علیحدگی کے بعد سابق چانسلر ( وزیر فینانس ) رشی سونک کے وزیر اعظم بننے کے امکانات تھے تاہم لز ٹروس نے یہ عہدہ حاصل کرلیا اور ان کے حکومت بنانے کے فوری بعد ٹیکس مراعات کا اعلان کیا گیا تھا ۔ حکومت کو امید تھی کہ ان مراعات کے نتیجہ میں برطانیہ کے عوام پر جو معاشی بوجھ عائد ہوتا جا رہا ہے اور ان کی مشکلات میں جو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس پر قابو پانے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے ۔ صنعتی اور دیگر تجارتی گوشوں کا بھی تاثر یہی تھا کہ ٹیکس مراعات کے نتیجہ میں صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی تاہم ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ٹیکس مراعات کا الٹا اثر ہونے لگا ہے اور معیشت میںسدھار اور استحکام آنے کی بجائے اس کی سست روی میں اضافہ ہو اہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج وزیر اعظم لز ٹروس نے وزیر فینانس کو ہی برطرف کردیا ہے ۔ 1970 کے بعد سے کواسی کوارٹینگ برطانیہ کے انتہائی مختصر مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیر فینانس بن گئے ہیں۔ انہیںمعاشی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے علیحدہ کیا گیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے طور پر معیشت کو سدھارنے کے اقدامات کا ادعا کیا تھا ۔ وہ صرف چھ ہفتوں کی مختصر مہلت میںوزیر فینانس کی حیثیت سے برطرف کردئے گئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ کی معیشت کی صورتحال کس حد تک نازک ہوگئی ہے ۔
ویسے تو بورس جانسن کے دور حکومت سے ہی برطانیہ کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے شروع ہوگئے تھے ۔ معاشی تنگی برطانوی عوام کیلئے مشکلات کا باعث بن رہی تھی ۔ ان کے اخراجات زندگی میں اضافہ کے نتیجہ ہی میں کئی محکمہ جات کے ملازمین کی جانب سے ہڑتال بھی کی گئی اور اجرتوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ خانگی کمپنیوںاور اداروں کی جانب سے کچھ حد تک اجرتوں میں اضافہ سے اتفاق بھی کیا گیا تھا لیکن ملازمین کیلئے یہ اضافہ قابل قبول نہیں تھا ۔ تاہم جس وقت سے یوکرین پر روس نے حملہ کیا تھا اس وقت سے معیشت بہت زیادہ متاثر ہوگئی ۔ عوام پر معاشی اخراجات کا بوجھ بھی بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ کہا جا رہا ہے کہ برطانوی عوام کو ایک طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ روز مرہ کے استعمال کی اشیا تک حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے برقی کے اخراجات تو توقع سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ برطانیہ جیسی دنیا کی بڑی معیشت میں پٹرول کی قیمتیں بھی عوام پر بوجھ کا سبب بن گئی ہیں۔ عوام کی قوت خرید میں کمی آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے صورتحال اور بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ بورس جانسن کی حکومت میںرشی سونک ہوں یا پھر اب برطرف کئے گئے کواسی کارٹینگ ہوں سبھی نے اپنے طور پر کچھ اقدامات کرنے کا دعوی ضرور کیا ہے لیکن عوام کو کوئی بھی راحت پہونچانے میں کامیابی نہیں ملی ہے ۔ عوام کی حکومت سے جو توقعات تھیں اور انہیں جو راحت ملنی چاہئے تھی وہ اب بھی برطانوی عوام کو مل نہیں پائی ہے ۔
حالانکہ لز ٹروس کو وزیر اعظم بنے صرف چھ ہفتوں کا وقت ہوا ہے اور معیشت میں سدھار اور عوام کیلئے راحت پہونچانے کے اقدامات کیلئے کچھ وقت ضرور درکار ہوتا ہے اور سابقہ حکومت کے اقدامات کو سدھارنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاہم موجودہ حکومت کیلئے زیادہ وقت نہیںرہ گیا ہے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے میں تاخیر کرے ۔ جتنی تاخیر ہوگی اتنی ہی برطانوی معیشت متاثر ہوگی ۔ اتنی ہی مشکلات عوام کو درپیش ہونگی ۔ ان پر بوجھ میں اضافہ ہوتا جائیگا ۔ جتنی تاخیر ہوگی اتنی ہی بہتری کیلئے مشکل ہوگی ۔ حکومت کو عوام کو راحت پہونچانے کے واحد مقصد سے فوری موثر اور جامع اقدامات کرنے چاہئیں۔