لندن: برطانوی وزیر اعظم رشی سنک زندگی اور معاش کی حفاظت کے لیے انسداد ہڑتال کے قوانین متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ میڈیا کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں رشی سنک نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یونین کے رہنما دیکھ سکتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو کرسمس کے موقع پر خلل ڈالنا صحیح نہیں ہے۔رشی سنک نے میڈیا کو بتایا کہ میں لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ اور ان کی روزی روٹی میں رکاوٹ کو کم کرنے کے لیے اگلے سال نئی قانون سازی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک ایسی پہل ہے جس پر ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ رشی سنک نے کہا کہ ملازمتوں کے تحفظ کیلئے ہڑتال (احتجاج) نہیں کام ضروری ہوتا ہے۔ٹریڈ یونینوں نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ کسی بھی نئے انسداد ہڑتال کے قوانین کی مخالفت کرنے کا عزم کیا ہے، جیسا کہ ہوم سکریٹری سویلا بریورمین نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے کرسمس کے سفری منصوبوں پر نظر ثانی کریں، کیونکہ کرسمس کے موقع پر ہنگامہ آرائی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور عوامی حمل و نقل کے نظام پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔حکومت یونینوں کے ساتھ ایک تلخ جنگ میں مصروف ہے۔ جب کہ پبلک سیکٹر کی ہڑتالوں کی لہر کے لیے کوئی بھی اس کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ نرسوں اور ایمبولینس ورکرز کے کرسمس سے پہلے واک آؤٹ ہونے کی وجہ سے کابینہ کے وزیر گیلین کیگن نے مشورہ دیا کہ حکومت صحت اور اہم انفراسٹرکچر میں کام کرنے والے کارکنوں کو صنعتی کارروائی کرنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔