حیدرآباد ۔ /4 جنوری (سیاست نیوز) ملین مارچ کو کامیاب بنانے کے پس پردہ خواتین کا آج اہم رول رہا ہے ۔ مختلف تنظیموں سے وابستہ خواتین کے علاوہ سینکڑوں گھریلو خواتین بھی شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر اتر آئیں ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ خواتین پر مشتمل گروپ این ٹی آر اسٹیڈیم میں مسلسل مارچ کرتا ہوا نظر آیا ۔ خواتین نے ملین مارچ کی کامیابی کو یقینی بنانے اپنے معصوم اور شیرخوار بچوں کے ساتھ این ٹی آر اسٹیڈیم میں مارچ کیا اور مرکز کے خلاف نعرے بازی کی ۔ مرد حضرات کی طرح ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مارچ میں اپنا احتجاج درج کروایا ۔ خواتین کے ایک گروپ جس کی سرپرستی مشہور ڈاکٹر شائستہ حسین کررہی تھیں نے کہا کہ حیدرآباد کی خواتین ہندوستان کی تمام خواتین کے حق میں اکٹھا ہوئی ہیں اور مودی حکومت پر الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے تحت خواتین پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں اور ان کے تحفظ کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹری شعبہ بھی اس قانون کے خلاف ہے ۔ پولیس کو اس بات کا علم نہ تھا کہ خواتین کثرت سے ملین مارچ میں شرکت کریں گی اور دھرنا چوک پر مختصر خواتین پولیس عملہ موجود تھا ۔