برقی چارجس میں اضافہ کی تجویز کو حکومت نے مسترد کردیا

   

چیف منسٹر و ڈپٹی چیف منسٹر کا اجلاس، 2025-26 میں بھی برقی چارجس جوں کے توں برقرار

حیدرآباد 14 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے پھر ایک مرتبہ برقی صارفین کو راحت فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ آئندہ مالیاتی سال 2025-26 ء میں بھی برقی شرحوں میں کوئی اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ تلنگانہ میں برقی سربراہ کرنے والی کمپنیوں (ڈسکامس) نے برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی منظوری طلب کی تھی جس کو حکومت نے مسترد کردیا۔ موجودہ برقی چارجس کو 2025-26 میں بھی جوں کا توں برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی تجویز کے بغیر 2025-26 ء کی سالانہ آمدنی کی ضرورت کے مطابق رپورٹ (اے آر آر) ٹیرف تجاویز (ای آر سی) کو پیش کرنے کی حکومت نے ڈسکامس کو منظوری دی ہے۔ ڈسکامس کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی ہدایت پر موجودہ شرحوں کو برقرار رکھنے کی ایک ہفتہ قبل ہی ای آر سی کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔ برقی ٹیرف ریگولیشن کے مطابق ہر سال 30 نومبر سے قبل آئندہ سال کی برقی کی قیمت اے آر آر کی تجاویز ڈسکامس کی جانب سے ای آر سی کو پیش کرنا لازمی ہے۔ سال 2024-25 کی برقی شرحوں میں اضافہ کی تجاویز ڈسکامس نے بی آر ایس کے دور حکومت میں تیار کی تھی تاہم اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اُس وقت مہلت میں توسیع دی گئی۔ شمالی اور جنوبی ڈسکامس نے گزشتہ مالیاتی سال 2023-24 میں 5,6299.29 کروڑ روپئے کا نقصان ریکارڈ کیا جو گزشتہ نقصانات کے ساتھ جملہ 57,448 کروڑ روپئے ہوگیا۔ TGSPDCL کا خسارہ 39,692 کروڑ روپئے ہے جبکہ TGNPDCC کا نقصان 17,756 کروڑ روپئے ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ریاستی وزیر برقی و ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرامارکا کی جانب سے برقی پر طلب کردہ اجلاس میں عہدیداروں نے یہ تفصیلات پیش کیں۔ عہدیداروں نے انھیں بتایا تھا کہ برقی شرحوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا ہے۔ عہدیداروں نے گھریلو برقی صارفین کو چھوڑ کر صنعتی اور دیگر کمرشیل زمروں میں برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی منظوری طلب کی جس سے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اتفاق نہیں کیا۔ 2