جی ایچ ایم سی تماشائی، حکومت فوری قیمتوں پر کنٹرول کرے ، عوام کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 17 فروری (سیاست نیوز) ریاست میں برڈ فلو کے خوف کے بعد چکن کی دُکانیں جہاں خالی پڑی ہوئی تھیں، وہیں مٹن کی دُکانوں پر خریداروں کا ہجوم دیکھا گیا۔ اکثر اتوار کو عوام نان ویج زیادہ کھاتے ہیں، تاہم برڈ فلو کی وجہ سے شہر کے کسی بھی چکن سنٹر پر لوگ نظر نہیں آئے ہیں، وہیں مٹن شاپ پر لوگوں کی بھیڑ دیکھی گئی اور ساتھ ہی اتوار کے دن سہ پہر ہوتے ہوتے سارا مٹن فروخت ہوگیا۔ یہی نہیں مٹن کی طرف عوام کے بڑھتے ہوئے ڈیمانڈ کے پیش نظر مٹن کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کرتے ہوئے کہیں 1,000 فی کیلو تو کہیں 1,100 روپئے فی کیلو فروخت ہوا۔ جبکہ عام دِنوں 800 تا 900 روپئے فی کیلو مٹن فروخت ہوتا تھا۔ عام طور پر شہر حیدرآباد کو مہاراشٹرا، راجستھان کے علاوہ دیگر ریاستوں سے بکرے بکریاں لائی جاتی ہیں۔ برڈ فلو کی وجہ سے بکرے بکریاں کی درآمد میں کمی آئی ہے۔ یہ بات میرعالم منڈی کے تاجر مقبول اور ضیاء گوڑہ کے تاجر رمیش نے بتائی۔ جس کے سبب تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے حیدرآباد کو بکرے لائے جارہے ہیں چنانچہ مٹن کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ عوام کا کہنا ہے کہ مٹن کی بڑھتی ہوئی قیمت پر ریاستی حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ مٹن کے دکان داروں کی جانب سے من مانی کرتے ہوئے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے، جی ایچ ایم سی کی جانب سے بھی خاموشی اختیار کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں دکاندار بہت زیادہ قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ یہ ساری صورتحال حکومت کی جانب سے قیمتوں پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور مہنگائی کی ساری مار عوام کو جھیلنی پڑ رہی ہے، لہٰذا حکومت فوری قیمتوں پر کنٹرول کرے۔2