برکینا فاسو میں دوسری مرتبہ فوجی بغاوت،آئین معطل

   

عدیس ابابا : افریقی ملک برکینا فاسو میں ایک فوجی کیپٹن نے ملک کے فوجی حکمراں لیفٹیننٹ کرنل پاؤل ہینری دمیبا کی حکومت کو برطرف کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں برس شورش زدہ مغربی افریقی ملک میں ہونے والی یہ دوسری بغاوت ہے۔کیپٹن ابراہیم ترورے جو برکینا فاسو کے نئے حکمران ہیں، نے جمعہ کو رات گئے سرکاری ٹیلی ویڑن پر اعلان کیا کہ حکومت کو تحلیل کر دیا گیا ہے، آئین کو معطل کر دیا اور تمام سرحدوں کو بھی بند کر دیا گیا۔کیپٹن ابراہیم ترورے نے کہا کہ افسران کے اسی گروپ نے لیفٹیننٹ کرنل پاؤل ہینری دمیبا کو ہٹایا جس نے جنوری میں ان کو اقتدار میں لانے کی مدد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے حملوں پر قابو نہ پانے کی وجہ سے افسران نے ان کو اقتدار سے ہٹایا۔افریقی ممالک مالی، چاڈ اور گِنی نے 2020 سے فوجی بغاوتیں دیکھیں۔ یہ خدشہ اب پیدا ہو گیا ہے کہ جس خطے نے گزشتہ ایک دہائی میں جمہوریت کو پنپتے دیکھا اب وہ واپس فوجی آمریت کی جانب جا رہا ہے۔