کنٹراکٹرس کاموں کی انجام دہی میں پس و پیش کا شکار ‘ بلز کی عدم اجرائی
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) شہر میں ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں بلدیہ حیدرآباد کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کنٹراکٹرس سے تعاون نہیں کیا جا رہاہے او رنہ تعمیراتی ومرمتی کاموں کی منظوری کی باوجود انہیں انجام دینے پہل کی جا رہی ہے ۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی معاشی ابتر صورتحال کے سبب شہر میں ترقیاتی کام ٹھپ ہونے لگے ہیں اور گتہ دار بلز کی عدم اجرائی کے سبب نئے کاموں کی انجام دہی میں پس و پیش کر رہے ہیں ۔ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے نئے منصوبوں کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن ان پر عمل میں سست روی سے کام لیا جا رہاہے۔دونوں شہروں میں کارپوریٹرس یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان علاقوں میں تعمیری و مرمتی کامو ںکی نشاندہی اور تجاویز روانہ کرنے کے باوجود ان کو منظوری نہیں دی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ بجٹ کی قلت کے سبب جی ایچ ایم سی منصوبوں کو پورا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ کارپوریٹرس کا کہناہے کہ بلدیہ کی نشاندہی کے باوجود ترقیاتی کاموںکے عدم آغاز کے سبب انہیں عوامی برہمی کا سامنا ہے کیونکہ وہ حسب وعدہ کاموں کو مکمل نہیں کرواپا رہے ہیں۔ بعض بلدی حلقوں میں یومیہ صفائی کے کام تک نہیں ہو رہے جس کے سبب کارپوریٹرس عوام کے درمیان پہنچنے سے قاصر ہیں۔بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ بجٹ نہ ہونے کی شکایت درست ہے کیونکہ کئی پراجکٹس جاری ہیں اور ان کی تکمیل کے بعد نئے پراجکٹس یا تعمیری کاموں کا آغاز کیا جاسکتا ہے لیکن بلدیہ کی جانب سے لازمی مرمتی کاموں کی انجام دہی کو یقینی بنایا جارہا ہے بالخصوص شہر کی سڑکوں پر گڑھوں کو بند کرنے اور سڑکوں کو مسطح کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔گتہ داروں کا کہناہے کہ ان کے بلز کی عدم اجرائی کے سبب وہ کام جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں اور جو کام مکمل کئے جاچکے ہیں ان کے بل ایک سال سے زیادہ وقت گذرنے کے باوجود جاری نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے گتہ داروں کو بھی مسائل کا سامنا اور وہ معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔م
