بلدیہ کے آؤٹ سورسنگ صفائی عملہ کو مستقل کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت

   

بلدیہ کو دو ماہ کی مہلت ، 17,000 ورکرس کو فائدہ
حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا سے نمٹنے کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے آؤٹ سورسنگ سینیٹیشن ورکرس کی ستائش کرتے ہوئے حکام کی جانب سے ان کے ساتھ اختیار کردہ رویہ پر ناراضگی جتائی۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی ہے کہ تمام آؤٹ سورسنگ سینیٹیشن ورکرس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے ۔ عدالت نے خدمات کو باقاعدہ بنائے جا نے تک انہیں ریگولر ملازمین کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت دی ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 17,000 سینیٹیشن ورکرس ، سپر وائزرس، فیلڈ ورکرس ، سپیریئر فیلڈ ورکرس، فیلڈ سپر وائزرس ، فیلڈ اسسٹنٹ اور دیگر ملازمین برسر خدمت ہیں۔ وہ ریگولر اسٹاف کی طرح صحت و صفائی کے شعبہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ان کی تنخواہیں انتہائی کم ہے۔ جسٹس ایم ایس رام چندر راؤ نے فیصلہ سناتے ہوئے جی ایچ ایم سی کو دو ماہ کی مہلت دی ہے تاکہ آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جاسکے۔ جی سرینواس چاری اور دیگر 97 ورکرس نے درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے کسی بھی ورکر کی خدمات کو ختم نہ کرنے بلدیہ کو ہدایت دی ۔ بلدیہ کو ہدایت گئی کہ وہ تمام ورکرس کی خدمات کو جاری رکھیں۔ واضح رہے کہ بلدیہ کی جانب سے آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنائے جانے سے گریز کیا جارہا تھا ۔ جسٹس رام چندر راؤ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ تمام ورکرس جی ایچ ایم سی کے راست ملازم ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق جی ایچ ایم سی کے سینیٹیشن ونگ میں 17,900 آؤٹ سورسنگ ملازمین ہیں۔ ان میں سے 11,000 سے زائد ورکرس گزشتہ 10 برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عدالت نے بلدیہ کی جانب سے ورکرس کے استحصال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔