مقامی جماعت کو عوامی ناراضگی کا سامنا، نئے چہروں کے ذریعہ کامیابی کی کوشش
حیدرآباد: لوک سبھا حیدرآباد کے تحت 43 بلدی حلقوں میں گزشتہ 5 برسوںکے دوران عوامی مسائل کی یکسوئی اور ترقیاتی کاموں میں ناکامی کے سبب مقامی جماعت مجلس کو بلدی انتخابات میں اپنے 10 سے زائد موجودہ کارپوریٹرس کو تبدیل کرنا پڑا۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں عوام کارپوریٹرس کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں پارٹی قیادت کو بارہا کی گئی نمائندگی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں عوام نے انتخابات میں کارپوریٹر کے خلاف ووٹ دینے کا من بنالیا تھا۔ مسائل کی یکسوئی کے علاوہ تعمیرات کی صورت میں کارپوریٹر اور ان کے حامیوں کی جانب سے ہراسانی کے بڑھتے واقعات نے مقامی جماعت کے امیج کو متاثر کردیا تھا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے امیدواروں کی فہرست کی تیاری کے موقع پر پارٹی نے عوامی ناراضگی سے بچنے کیلئے 10 سے زائد موجودہ کارپوریٹرس کو ٹکٹ سے محروم کردیا یا پھر انہیں حلقہ تبدیل کرتے ہوئے دوسرے مقام سے امیدوار بنایا گیا۔ ٹکٹ سے محروم کارپوریٹرس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ قیادت مطمئن نہیں تھی۔ بعض موجودہ کارپوریٹرس کے حامیوں نے ٹکٹ سے محرومی کے خلاف سوشیل میڈیا پر مہم شروع کی ہے۔ بلدی حلقہ چھاؤنی کے موجودہ کارپوریٹر کو ٹکٹ سے محروم کرنے کے بعد سوشیل میڈیا میں پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں نماز کی ادائیگی روکنے کی پولیس کی کوشش کو ناکام بنانے اور قومی ٹی وی چیانل کو انٹرویو دینے کی سزا کے طور پر ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ہے ۔ بعض ایسے کارپوریٹر ہیں جو مسلسل تین مرتبہ منتخب ہوئے یا تو انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا یا پھر بعض کو آخری موقع قرار دیتے ہوئے دوسرے حلقہ سے امیدوار بنایا گیا۔ بلدی انتخابات میں امیدواروں کے سلسلہ میں عوامی رائے مختلف ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے موقع پر بلدی، برقی اور آبرسانی مسائل کی یکسوئی کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن منتخب ہونے کے بعد ان بنیادی مسائل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں گندگی، سڑکوں کی خرابی ، کچرے کی عدم نکاسی ، آلودہ پانی کی سربراہی اور ہفتہ میں ایک مرتبہ پانی کی سربراہی جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ کارپوریٹرس ان مسائل کی یکسوئی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ کارپوریٹرس کی عدم کارکردگی کا اثر ارکان اسمبلی پر پڑسکتا ہے ، لہذا قیادت نے عوامی ناراضگی سے بچنے کیلئے کئی حلقوں میں نئے چہروں کو موقع دیا ہے۔ حالیہ سیلاب اور بارش کی تباہ کاریوں سے پریشان حال خاندانوںکی مدد میں ناکامی بلدی انتخابات میں اہم موضوع بن سکتی ہے اور مقامی جماعت کو اس مسئلہ پر عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ٹولی چوکی کے علاقہ میں بعض متاثرہ کالونیوں کے افراد نے رائے دہی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اگر بیالٹ پیپر پر NOTA کی گنجائش رہے گی تو وہ اسی مقام پر مہر لگاتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے۔ پرانے شہر کے مسائل کی عدم یکسوئی ، پسماندگی کی برقراری اور کارپوریٹرس کی عدم کارکردگی کے نتیجہ میں عوامی ناراضگی کے چلتے مقامی جماعت کو انتخابی مہم میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ عوام کا احساس ہے کہ اس مرتبہ وہ وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔