حکومت دستور سے آرٹیکل 200 میں تبدیلی چاہتی ہے، 30 دن کا ڈیڈ لائن نافذ کرنے کی تجویز
حیدرآباد۔/26 نومبر، ( سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوجانے کے بعد تلنگانہ حکومت سرکاری بلز کو منظوری دینے کے معاملے میں اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ واضح رہے کہ تقریباً ایک سال سے چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ گورنر نے کھل کرحکومت پر تنقید کی ہے اور وزراء و ٹی آر ایس کے عوامی منتخب نمائندوں نے راج بھون کو بی جے پی کے دفتر میں تبدیل کردینے کا گورنر پر الزام عائد کیا ہے۔ گذشتہ اسمبلی اجلاس کے دوران منظورہ 8 بلز میں گورنر نے صرف ایک جی ایس ٹی ترمیمی بل کو منظوری دی ہے اور مابقی 7 بلز کو راج بھون میں زیر التواء رکھا ہے۔ یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے مشترکہ بورڈ تشکیل دینے کے فیصلہ پر گورنر نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کو راج بھون طلب کرکے وضاحت طلب کی ہے جس کا بھی حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے۔ 7 بلز لمبے عرصہ سے زیر التواء رہنے سے حکومت کو مشکلات پیش آرہی ہیں جس پر حکومت نے دستور کے آرٹیکل 200 کو ترمیم کرنے کی اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اسمبلی میں منظور ہونے والے بلز جلد از جلد قانونی شکل اختیار کرسکیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ دستور کے آرٹیکل 200 میں گورنرس کو جلد از جلد بلز منظور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کا گورنر تلنگانہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بلز کی منظوری میں جان بوجھ کر تاخیر کررہی ہے لہذا حکومت جلد از جلد لفظ ہٹاکر 30 دن کی ڈیڈ لائن کو نافذ کرنے کی ترمیم کرنے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ن