اُٹھ کے اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
گجرات فسادات کے رسوائے زمانہ بلقیس بانو کیس کے مجرمین کی رہائی کے مسئلہ پر ایک بار پھر سیاست کی جا رہی ہے ۔ جہاں ملک کی تقریبا تمام اپوزیشن جماعتوںاورا نصاف پسند عوام کی جانب سے ان مجرمین کی رہائی پر تنقیدیں کی گئی ہیں اور خود بلقیس بانو نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے وہیں بی جے پی کے قائدین کی جانب سے ان کی رہائی کا دفاع کیا جا رہا ہے ۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ بیٹی بچاؤ ۔ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے والی بی جے پی کے قائدین اجتماعی عصمت ریزی اور قتل عام کرنے والے مجرمین کی حمایت کرتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ وہ صرف مذہبی تعصب اور سیاسی فائدہ کی سوچ سے کام لیتے ہوئے انتہائی سنگین اور شرمناک جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی تائید سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیںاور ان کا دفاع کرتے ہوئے ایک غلط مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مرکزی وزیر کے عہدہ پر رہتے ہوئے بھی لوگ ان مجرمین کی مدافعت کرتے نظر آرہے ہیں۔ گجرات بی جے پی کے قائدین تو عصمت ریزی کرنے اور قتل عام کرنے والے مجرمین کو سنسکاری قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ شائد ان قائدین کے سنسکار ہیں کہ خواتین کی عصمت ریزی کی جائے ۔ رحم مادر میںبچے کا قتل کیا جائے ۔ انسانوں کا قتل عام کیا جائے ۔ سنسکار کی یہ نئی تشریح ملک میں بی جے پی نے شروع کی ہے اور اس کے قائدین ایسا کرتے ہوئے ذرا برابر بھی شرمندگی محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ ایک لیڈر اگر ان کا دفاع کرتا ہے تو دوسرے بھی اس کی تائید کرنے سے گریز نہیں رہے ہیں۔ اپنے انداز میں نت نئی تاویلیں پیش کرتے ہوئے حکومت گجرات کے فیصلے کو درست قرار دینا چاہتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مجرمین کی رہائی کو مرکزی وزارت داخلہ نے بھی منظوری ہے ۔ ملک میںبیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو اس انتہائی حساس اور سنگین و شرمناک فیصلے پر وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں گجرات کے ایک رکن اسمبلی نے ان خاطیوں کی رہائی کی سفارش کی تھی اور ان کو سنسکاری قرار دیا تھا ۔ جیل سے رہائی پر انہیں مٹھائی پیش کی تھی وہیں اب مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بھی ان کی رہائی کے فیصلے کی مدافعت کی ہے اور کہا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سزا کی تکمیل سے قبل اچھے کردار کی بنیاد پر مجرمین کو رہاء کرنے کی گنجائش موجود ہے اور اسی کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ ملک کی جیلوں میں لاکھوں افراد قید ہیں۔ انہوں نے سنگین اور معمولی سبھی جرائم کئے ہیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے قیدی ہیں جن کے کردار جیل کی سلاخوں کے پیچھے اچھے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ان ہزاروں قیدیوں کو ملک کی تمام ریاستوں میں رہا کردیا جائیگا ؟ ۔ کم از کم جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں کیا ان ریاستوں میں تمام اچھے کردار والے قیدیوں کو رہا کرنے کی پہل کی جائے گی ؟ ۔ ویسے بھی بلقیس بانو کیس عام نوعیت کا کیس نہیں ہے ۔ اس انسانیت سوز وحشیانہ جرم نے سارے ملک کو شرمندہ کردیا تھا ۔ خاتون کی عصمت ریزی کی گئی ‘ رحم مادر میں بچے کا قتل کیا ‘ افراد خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ خود سی بی آئی نے اپنی تحقیقات میں اس کیس کو انتہائی سنگین قرار دیا تھا اس کے باوجود اس کیس کے ہی ملزمین کو رہائی دیتے ہوئے حکومت گجرات نے انتہائی شرمناک فیصلہ کیا ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی اس فیصلے کی تائید و حمایت کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کی نفی کی ہے ۔
چونکہ سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی ہر مسئلہ سے سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اسی لئے یہ شبہات تقویت پاتے ہیں کہ بی جے پی بلقیس بانو کیس کے مجرمین کی رہائی کے ذریعہ سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ گجرات میں اسمبلی انتخابات کا وقت ہوچلا ہے ۔ کسی بھی وقت وہاں انتخابی شیڈول جاری ہوسکتا ہے اور بی جے پی چاہتی ہے کہ ایک بار پھر مذہبی خطوط پر سماج میں تقسیم پیدا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جائے ۔ یہی وہ روش ہے جس نے ملک کے ماحول کو پراگندہ کردیا ہے ۔ سیاسی فائدہ کیلئے اس طرح کے شرمناک فیصلوں کی مہذب سماج میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔
