ریلوے سادھنا کمیٹی کی جانب سے مکمل بند اور احتجاجی جلوس
سوریا پیٹ۔ 18ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بلیٹ ٹرین کے مطالبہ پر ریلوے سادھنا کمیٹی کی جانب سے سوریا پیٹ میں مکمل بند منایا گیا اور احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں، مختلف تنظیموں اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا۔ کاروباری افراد اور تعلیمی اداروں ودیگر نے رضاکارانہ طور پر بند کیا۔ عوام اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے بلیٹ ٹرین کو سوریا پیٹ سے گزارنے کا مطالبہ کیا۔ریلوے سادھنا کمیٹی کے ذمہ داران نے کہا کہ سوریا پیٹ شہر ایک اہم اور تجارتی مرکز ہے اور یہاں سے بلیٹ ٹرین کا گزرنا نہ صرف شہر بلکہ اطراف کے علاقوں کی ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔ کمیٹی نے مرکزی وریاستی حکومت سے مطالبہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔واضح رہے کہ حیدرآباد–چنئی ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے مجوزہ روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ابتدائی تجویز میں چوٹ اپل ، سوریاپیٹ کوداڑ شامل تھے جبکہ بعد ازاں نئے روٹ میں فیوچر سٹی، ڈرائی پورٹ، ہالیہ اور وڈاپلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی تبدیلی کے خلاف ریلوے سادھنا کمیٹی اور مقامی عوام کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ریلوے سادھنا کمیٹی نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی کہ سوریا پیٹ کے مستقبل اور علاقے کی ترقی کے لیے اس مطالبہ کی حمایت کریں اور جمہوری و پرامن طریقے سے اپنی آواز حکومت تک پہنچائیں۔احتجاجی جلوس کے دوران رکن اسمبلی سوریاپیٹ وسابق وزیر جی جگدیش ریڈی نے کہا کہ بلیٹ ٹرین کے لیے اصل الائنمنٹ (راستے کا تعین) کو ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مجوزہ الائنمنٹ سے تلنگانہ کو قطعاً کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ جگدیش ریڈی نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ یہ بلیٹ ٹرین روٹ ایک ایسے ’فیوچر سٹی‘ سے کیوں تجویز کیا جا رہا ہے جس کا اپنا کوئی مستقبل ہی نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ چوٹ اپل، سوریا پیٹ اور کوداڑ سے گزرنے والا ریلوے روٹ نلگنڈہ ورنگل اور کھمم اضلاع کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔جگدیش ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ریلوے لائن کو کم آبادی والے علاقہ سے گزارنا عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات خاص طور پر وزیر اعلیٰ کی خریدی گئی 3,000 ایکڑ اراضی کو فائدہ پہنچانے کے لییاور صرف ان کے اور آندھرا کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔
جگدیش ریڈی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اصل الائنمنٹ کو بالکل اسی طرح برقرار رکھنا چاہیے۔ ہم اپنی تحریک کو اس وقت تک تیز کریں گے جب تک کہ بلیٹ ٹرین کا روٹ NH-65 حیدرآباد-وجے واڑہ ہائی وے منظور نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد—بڑے ہوں یا چھوٹے—نے رضاکارانہ طور پر ‘بند’ کا اہتمام کیا اور ریلی میں شرکت کی۔ بحیثیت رکن اسمبلی، میں سوریا پیٹ کے عوام کی خواہشات کے عین مطابق ‘جے اے سی’ (مشترکہ ایکشن کمیٹی) کی جانب سے شروع کیے جانے والے ہر پروگرام کی مکمل حمایت کروں گا۔