بی جے پی سارے ملک میں بلڈوزر کا خوف پیدا کرتی جا رہی ہے ۔ اس کیلئے عدالتی احکام کو بھی بالائے طاق رکھا جا رہا ہے اور من مانی انداز میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے آخری حد تک طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ در اصل بی جے پی اب بلڈوزر کو انتخابی ہتھیار بناتی جا رہی ہے ۔ دہلی میں جو فسادات بھڑکائے گئے تھے وہ اچانک عوام کے درمیان کسی تنازعہ یا کشیدگی کے نتیجہ میںپیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان فسادات کو منظم انداز میں بھڑکایا گیا تھا تاکہ بی جے پی اپنی انتخابی تیاریوںکو آگے بڑھا سکے ۔ دارالحکومت دہلی کے بلدی انتخابات کا وقت ہو چلا ہے ۔ اب تک انتخابات کا اعلامیہ بھی جاری کیا جانا چاہئے تھا لیکن بی جے پی کو عام آدمی پارٹی سے خوف محسوس ہونے لگا ہے ۔ خاص طور پر اس صورت میں جبکہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کو اس کے اثرات دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر بھی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی نے پہلے تو دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کو ملتوی کردیا ۔ اس کیلئے حلقہ جات کی حد بندی کا بہانہ کیا گیا ۔ اس کے بعد سری رام نومی اور پھر ہنومان جینتی کے موقع پر عمدافرقہ وارانہ کشیدگی اورفسادات بھڑکائے گئے ۔ عوام کو ایک بار پھر ہند و ۔ مسلم میں بانٹ دیا گیا ۔ اب تک حد یہ ہوگئی کہ مسلمانوں کے مکانات اوران کی دوکانات کو تک مسمارکردیا گیا ۔ غیر قانونی تعمیر کے نام پر تو کہیں فسادات میںملوث رہنے کے الزام عائد کرتے ہوئے مسلمان اپنے گھر اور تجارت سے بھی محروم کردئے گئے ہیں۔ ویسے تو حکومتیں خود مسلمانوں کو کوئی مدد فراہم نہیںکرتیں ۔ انہیں کوئی روزگار فراہم نہیں کیا جاتا لیکن جب مسلمان خود اپنے بل پر روزی روٹی کماتا ہے تو اسے بھی ختم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ دہلی بلدیہ کا دعوی ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا ہے ۔ دہلی بلدیہ پر بی جے پی کا پندرہ سال سے قبضہ ہے ۔ پھر اتنے برس کیوں نہیں ان تعمیرات کو منہدم کیا گیا ؟ ۔ یہ سب کچھ بہانہ ہے اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ حکومت کی جانب سے اور حکومت کی ایماء پر ہی کیا جا رہا ہے ۔
2020 میں جس طرح سے دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے تھے اور اس وقت بھی مسلمانوں کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا تھا وہ سارے ملک نے دیکھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب ملک اور ملک کے عوام صرف دیکھ رہے ہیں اور غلط کو غلط کہنے کی جراء ت اب عوام کھوتے جا رہے ہیں یا پھر حکومت کی بلڈوزر کی سیاست سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کے سارے کٹر پسند جنونیوں نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔ انہیں پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان کے گھر جلائے گئے ۔ ان کی دوکانات کو نذر آتش کردیا گیا ۔ اس کے باوجود بی جے پی کو وہاں کوئی کامیابی نہیںملی تھی ۔ اب سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایک بار پھر بی جے پی کی جانب سے آگ اور خون کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کے سروں سے سائبان چھینا جا رہا ہے ۔ ان کے بچوں کی پلیٹ سے روٹی چھینی جا رہی ہے اور اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ملک کی عدالت عظمی سپریم کورٹ کی جانب سے احکام کی اجرائی کے باوجود بلڈوزر آج دن بھر چلتا رہا اور دوکانات و مکانات کو تباہ و تاراج کردیا گیا ۔ مسجد کی گیٹ کو تک نہیں بخشا گیا اور اسے بھی منہدم کردیا گیا ۔ بہانہ یہ پیش کیا گیا کہ عدالتی احکام متعلقہ عہدیداروں تک پہونچے نہیں ہیں۔
یہ سارا کچھ مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے ۔ دہلی میں نظم و قانون کی ذمہ داری وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہے ۔ تاہم امیت شاہ کی ناک کے نیچے ہی فساد برپا کیا جا رہا ہے ۔ آگ زنی ہو رہی ہے ۔ مار پیٹ ہو رہی ہے ۔ لوٹ مار کی جا رہی ہے ۔ عدالتی احکام کی خلاف ورزی ہو رہی ہے لیکن امیت شاہ صرف پولیس کو صرف ہدایات دینے میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخابات کی تیاریوں کو بی جے پی پوری تیزی سے شروع کرچکی ہے ۔ اسی لئے فساد برپا کئے گئے ۔ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کو حاشیہ پر کردیا گیا ہے ۔ ان کا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ۔ تاہم بی جے پی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ظلم کے سلسلہ کو کہیں نہ کہیں جا کر ٹوٹنا ضرور پڑتا ہے اور وہ وقت شائد زیادہ دور نہیں رہ گیا ہے ۔
