بلڈوزر ‘ عدالت کا متبادل ؟

   

Ferty9 Clinic

یارب نہ وہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل اُن کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ملک میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میںایسی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے جن پر ہر صحیح العقل ہندوستانی کوتشویش لاحق ہونی ضروری ہے ۔ جس طرح سے اترپردیش میں لا قانونیت کو باضابطہ قانونی شکل دی گئی تھی اور سیاسی مخالفین اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے من مانی فیصلے کئے گئے تھے اسی طرح اب بی جے پی اقتدار والی دوسری ریاستوں میں بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے ۔ حالیہ رام نومی جلوسوں کے موقع پر کٹرپسند فرقہ پرستوں کی جانب سے جو تشدد برپا کیا گیا وہ سارے ملک نے دیکھا ۔ کس طرح سے مساجد کے تقدس کو پامال کیا گیا ۔ مساجد میں آگ زنی کی گئی ۔ مساجد پر بھگوا جھنڈے لہرائے گئے اور مسلمانوں کے کاروبار اور تجارت کو نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے بعد پولیس نے حرکت میںآتے ہوئے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور مقدمات بھی اقلیتوں کے خلاف ہی درج کرتے ہوئے انہیں ہی نشانہ بنایا گیا ۔ ان پر الزام تھا کہ جلوس پر سنگباری کی گئی ۔ یہ کہا گیا کہ جلوس میںڈی جے بجاتے ہوئے متنازعہ گیت بجائے جا رہے تھے ۔ جب خود پولیس ایسا کہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ ڈی جے پر پابندی کے باوجود اسے بجایا گیا ۔ اس پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔ متنازعہ اور اشتعال انگیز گیت بجانے اور نعرہ بازی کرنے اور مساجد کے تقدس کو پامال کرنے پر بھی پولیس نے کارروائی نہیں کی بلکہ مسلمانوںپر سنگباری کا جھوٹا الزام عائدکرتے ہوئے ان کے خلاف ہی مقدمات درج کئے گئے ۔ بات یہیں پر ختم نہیںہوئی ۔ اصل تشویش کی بات تو یہ ہے کہ جن مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ان کے مکانات کو منہدم کردیا گیا ۔ عذر یہ پیش کیا گیا کہ انہوں نے تشدد برپا کیا تھا ۔ کچھ مقامات پر یہ عذر پیش کیا گیا کہ مکانات یا دوکانات وغیرہ کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی گئی تھی ۔ اگر دونوں ہی الزامات درست بھی ہوںتو انتظامیہ کو اس طرح کی کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں تھا ۔ اگر واقعی تشدد کیا گیا تو مقدمات درج کرکے عدالتوں میںپیش کیا جانا چاہئے تھا ۔ تعمیرات غیر قانونی تھیں تو انہیں بھی نوٹس جاری کی جانی چاہئے تھی ۔ ایسا کرنے کی بجائے انتظامیہ نے ہی کارروائی انجام دیدی ۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوںکے تعلق سے بی جے پی حکومتوں میںایک غیر معلنہ قانون پر عمل کیا جا رہا ہے جو سنگھی ایجنڈہ کا حصہ ہے ۔ اترپردیش میں جس طرح سے آدتیہ ناتھ حکومت میں انکاونٹرس کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ملزمین یا مجرمین کو عدالتوں سے سزا دلانے کی بجائے خود ہی ’ ٹھوک ‘ دینے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی اسی طرح اب مسلمانوںکو خوفزدہ کرنے انہیں چھت سے محروم کردینے اور ان کی تجارت و کاروبار کو ختم کردینے کا خفیہ منصوبہ بناتے ہوئے اس پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایک ایسے مسلمان کے گھر کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منہدم کردیا گیا جسے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت تعمیر کیا گیا تھا ۔ ایک اور ایسے مسلمان شخص پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کا گھر منہدم کردیا گیا جو پہلے ہی دیڑھ مہینے سے کسی مقدمہ میں جیل میں ہے ۔ ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی حکومتیں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم کا سرکاری طور پر آغاز کرچکی ہیں۔ فرقہ پرست عناصر جو کام نہیں کرپا رہے تھے وہ کام اب حکومتیں قانون کے نام پر شروع کرچکی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوںکو روکنے کیلئے بھی کوئی آگے نہیں آ رہا ہے اور مسلمانوں کو حکومتوں کی سازش کا سامنا کرنے کیلئے تنہا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔ جو کارروائیاں بی جے پی حکومتوں میںشروع کی گئی ہیںان کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔
تشدد برپا کرنے کے الزام میں مکانات کو منہدم کرنے کا کوئی قانونی جواز بھی نہیںہوسکتا ۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے کہ مقدمات درج کرکے عدالتوں سے رجوع ہوا جائے ۔ عدالتیں تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد سزاوں کے تعلق سے فیصلے سناسکتی ہیں لیکن بی جے پی حکومتیں اب اپنے منصوبوںپر عمل کرنے عدالتی عمل کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح سے عدالتوں کی اہمیت اور ان کی بالادستی پر بھی سوال پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ملزمین کو سزائیں دینے کا اختیار صرف عدالتوں کو ہے اور یہ اختیار کسی اور اتھاریٹی کو نہیںدیا جاسکتا ۔ذمہ دار تنظیموں اور شہریوں کو اس سلسلہ میںعدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تاکہ اس طرح کی غیر قانونی اور من مانی کارروائیوں کو روکنے کی سمت پیشرفت ہوسکے اور مسلمانوں کو حکومتوں کے عتاب سے بچایا جاسکے ۔
فرقہ وارانہ جنون پر وزیر اعظم کی خاموشی
ملک کی مختلف ریاستوں میں فرقہ وارانہ جنون کو انتہائی تیزی کے ساتھ ہوا دی جا رہی ہے ۔ اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ جنونی عناصر کھلے عام ملک کا ماحول پراگندہ کر رہے ہیں۔ بیشتر مواقع پر انہیں پولیس کی مدد بھی مل رہی ہے ۔ ملک کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے ۔ اس کے باوجود ملک کے وزیراعظم نریندرمودی اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک اس مسئلہ پر لب کشائی سے گریز کیا ہوا ہے ۔ مودی کی جانب سے ویسے تو انتہائی معمولی باتوں پر بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے ۔ ٹوئیٹ کیا جاتا ہے ۔ من کی بات میں خطاب کیا جاتا ہے لیکن ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ماحول کو خراب کرنے کی منظم سازشوں اور کوششوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ ابھی تک انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف حکومتوں کی جانب سے سنجیدگی سے کوئی کارروائی کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم کی خاموشی اور حکومتوں کی لاپرواہی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان جنونیوں کو حکومت کی بالواسطہ تائید و حمایت حاصل ہے اور یہ تنظیمیں ایک ذمہ داری کے تحت ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ وزیر اعظم کو اس مسئلہ پر لب کشائی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ جنون بھڑکانے والوں کی مذمت کرنی چاہئے اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی جانی چاہئے ۔