لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں کی جا رہی مختلف کارروائیوں کو عدالتی سرزنش اور پھٹکار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عدالتوں نے کئی معاملات میں حکومت کو راست یا بالواسطہ طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کچھ ریمارکس بھی کئے ہیں۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں پر بھی عدالتوں نے پھٹکار سنائی ہے ۔ حالیہ کچھ عرصہ سے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں بلڈوزر کارروائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ جو کوئی سیاسی مخالفین ہیں ان کے خلاف کسی نہ کسی بہانے سے بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ مخالفین کے گھروں ‘ دوکانات اور جائیدادوں پر اچانک ہی بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں اور عمارتوں کو زمین بوس کیا جا رہا ہے ۔ حکومتوں کا ادعا یہ رہتا ہے کہ یہ لوگ غیر قانونی سرگرمیوں میںملوث رہے ہیں یا پھر جو تعمیرات ہیں وہ غیر مجاز طور پر کی گئی ہیں۔ اگر حکومتوں کے یہ بہانے درست بھی ہیں تب بھی انہیں یہ اختیار نہیں کہ کسی بھی عمارت کو عدالتی عمل کی تکمیل کئے بغیر اچانک ہی بلڈوزر سے منہدم کردیا جائے ۔ اگر عمارتیں کسی اجازت کے بغیر تعمیر کی جا رہی ہیں اور انہیںمنہدم کیا جا رہا ہے تو متعلقہ بلدی عہدیداروں کو بھی معطل کیا جانا چاہئے یا برطرف کیا جانا چاہئے ۔ کیونکہ ان کا کام ہے کہ وہ کسی عمارت کی بلا اجازت تعمیر کو روکیں۔ کوئی بھی عمارت راتوں رات اچانک ہی تعمیر نہیںہوجاتی ۔ اس کیلئے مہینوں کا وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس سارے وقت میںسرکاری محکمہ جات یا پھر ان کے عہدیدار اگر ان تعمیرات کو روکنے میں ناکام ہوتے ہیں یہ ان کی نا اہلی ہے اور ان عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ۔ ان سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہئے ۔ ان کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے اور انکوائری کی تکمیل تک انہیں معطل کیا جانا چاہئے ۔ اگر انکوائری میں ان کی نا اہلی ثابت ہوجاتی ہے تو پھر انہیں برطرف بھی کیا جانا چاہئے ۔ تاہم ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ حکومتوں کی جانب سے سیاسی مخالفتوں کا گلا دبانے کیلئے ایسی کارروائیاں کی جا رہی ہیںاور ان کا مقصد مخالفین میںخوف و ہراس پیدا کرنا اور انہیںہراساں و پریشان کرنا ہی ہے اسی وجہ سے ایسی کارروائیاںشروع کی جا رہی ہیں۔
آسام ہائیکورٹ نے اسی طرح کی کارروائیوںپر ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ بلڈوزر کے ذریعہ کوئی انصاف نہیں کیا جاسکتا ۔ کسی کے گھر یا کسی کی دوکان و جائیداد پر اچانک ہی بلڈوزر چلانے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ حکومتوں اور عہدیداروں کی اس طرح کی من مانی سے ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا ۔ آسام ہائیکورٹ کا یہ تبصرہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسی کو ملک بھر میں دوسری عدالتوں سے بھی رجوع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دہلی سے لے کر اترپردیش تک ‘ مدھیہ پردیش سے لے کر کئی اور ریاستوں تک بی جے پی حکومتوں کی جانب سے بلڈوزر راج شروع کردیا گیا ہے ۔ جو کوئی سیاسی مخالف نظر آتا ہے یا پھر حکومت سے اتفاق نہ کرنے والے عوام ہوں یا پھر اقلیتی طبقات ہوں ان کے لوگوں کے خلاف بلڈوزروں کے ذریعہ کارروائی کی جا رہی ہے ۔ ان کے گھروں مسمار کیا جا رہا ہے اور دعوی یہی کیا جا رہا ہے کہ یہ تعمیرات غیر مجاز تھیں۔ اگر ملک کی ہر ریاست اور ہر شہر کا سروے کیا جائے تو درجنوں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں جائیدادں اور عمارتیں بلا اجازت غیرمجاز طور پر تعمیر کی گئی ہیں۔ ان میں سیاسی قائدین کی املاک بھی شامل ہیں لیکن ہر کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی یہ ۔ یہ صرف اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے ایک ہتھیار کے طور پر شروع کی گئی مہم ہے اور اس کے ذریعہ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔
ملک میں قانون کی بالادستی ہے ۔ عدالتیں موجود ہیں۔ کسی بھی غلط یا غیر قانونی کام پر عدالتوں سے انصاف کیا جاسکتا ہے ۔ عدالتوں سے رجوع ہوتے ہوئے احکام حاصل کرنے کا مروجہ طریقہ ہے ۔ اس کو اختیار کرنے کی بجائے اس سے انحراف کیا جا رہا ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے عوامی رائے پر اثرا نداز ہونے کی کوشش بھی ہو رہی ہے جو انتہائی نامناسب عمل ہے ۔ حکومتوں کو اس طرح کی روش سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ قانون کی بلادستی اور اس پر عمل کو یقینی بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے قوانین کی خلاف ورزی کرنا نہیں۔
