بازیچۂ اطفال ہے دُنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے
ہندوستان میں انصاف رسانی میں تاخیر عام بات ہے ۔ لاکھوں مقدمات ایسے ہیںجن میںمظلومین اور انصاف سے محروم افراد انصاف حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ عدالتیں بھی اپنی جانب سے بے تکان جدوجہد کرتے ہوئے عوام کو انصاف دلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتیں۔ تاہم حکومتوں کی جانب سے عدلیہ کے نظام میں ضروری اصلاحات لانے سے گریز کیا جاتا ہے ۔ ججس کے تقرر میں تاخیر کی جاتی ہے ۔ کوئی نہ کوئی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب انصاف رسانی کا عمل متاثر ہوتا ہے ۔ لوگ برسوں انتظار کرتے تھک سے جاتے ہیں۔ تاہم عدلیہ پر آج بھی عوام کا یقین غیر متزلزل ہے ۔ لوگ پورے یقین کے ساتھ انصاف حاصل کرنے عدالتوں سے رجوع ہوتے ہیں۔ تاہم حالیہ وقتوں میں دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں پر ریاستی حکومتیں اور تحقیقاتی ایجنسیاں اور سرکاری محکمہ جات یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی شکایت پر فوری بلڈوزر سے کارروائی کرتے ہوئے نئی روایت شروع کر رہی ہیں۔ اگر کہیں کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے تو پہلے تو اس سے متعلقہ حکام سے سوال ہونا چاہئے کہ انہوں نے اس کا موقع کیوں نہیں دیا ۔ اس کے بعد عدالتوں سے رجوع ہوتے ہوئے احکام حاصل کئے جانے چاہئیں۔ لیکن حکومتیں اور سرکاری محکمہ جات ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ وہ عدالتوں سے رجوع ہونے کی بجائے سیدھے بلڈوزر چلاتے ہوئے گھروں اور عمارتوں کو منہدم کر رہے ہیں۔ انہیںملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ بلڈوزر کارروائیوں کا آغاز اتر پردیش سے کیا گیا ۔ اس کو ایک مخصوص طبقہ کو خوفزدہ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا تھا اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من مانیاں کی گئیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ بلڈوزر کو دوسری ریاستیں بھی استعمال کرنے لگی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں نے اس کارروائی پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور ایسا کرنے پر سرزنش بھی کی ہے ۔ حالیہ ایک سماعت کے موقع پر پٹنہ ہائیکورٹ نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’ کیا یہاں بھی بلڈوزر چلے گا ‘‘ ’’ تماشہ بنادیا کہ کسی کا بھی گھر بلڈوزر سے توڑ دیں گے ‘‘ ۔
اس سے قبل بھی عدالتوں سے اس طرح کی کارروائیوں پر پھٹکار کی گئی تھی ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومتیں اپنے اقتدار کے نشہ میں اور عہدیدار سیاسی و سرکاری سرپرستی کے نتیجہ میں عدالتی پھٹکار پر بھی شرمندگی محسوس نہیںکر رہے ہیں۔ وہ اپنی من مانی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک میں عدالتیں موجود ہے ۔ مضبوط نظام عدلیہ انتہائی موثر ڈھنگ سے کام کر رہا ہے ۔ لوگوں کا عدلیہ پر یقین کامل ہے تو سرکاری محکمہ جات اور حکومتیں اس طرح کا رویہ کیوں اختیار کر رہی ہیںجس سے عدالتی عمل پر انہیں یقین نہ ہونے کا اظہار ہو رہا ہے ۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عہدیدار اور سرکاری محکمہ جات اس طرح کی من مانی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اگر انہوں نے کسی کا گھر توڑ دیا اور وہ بے گناہ ثابت ہوتا ہے تو پھر کیا اس گھر کی یا عمارت کی دوبارہ تعمیر کی جائیگی ۔ جو نقصان ہوگا اس کی بھرپائی کون کریگا ؟ ۔ کیا عہدیدار اس طرح کی کارروائیوں پر جوابدہ بنائے جائیں گے ۔ کیا عہدیداروں سے یہ نقصانات وصول کئے جائیں گے ۔ اگر نہیں تو پھر اس کی بھرپائی کہاں سے ہوگی ؟ ۔ عدالتوں کی جانب سے ہونے والی پھٹکار کو بھی عہدیدار بے شرمی سے جھیل رہے ہیں اور ان کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے ۔ بلڈوزر کارروائیاں ہندوستان میں قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے کیونکہ اس طرح سے عوام کو ان کے گھروں سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس پر کوئی جوابدہ بھی موجود نہیں ہے ۔
مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ہوں انہیں اس معاملے میں ایک واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی محکمہ یا عہدیدار کو بلڈوزر چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ سیاسی تکبر کی وجہ سے ملک میں قانون کی دھجیاں اڑنے نہ پائیں۔ سیاسی اقتدار مستقل نہیںہوتا اور عہدیداروں کو سیاسی سرپرستی یا تائید پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو کسی دباؤ یا جانبداری کے بغیر پوری کرنا چاہئے ۔ سرکاری محکمہ جات بھی قانون کے تابع ہیں اور انہیں جوابدہ بنانا چاہئے ۔ عہدیداروں پر لگام کسنی چاہئے تاکہ بلڈوزر سے توڑ پھوڑ مچانے کا سلسلہ روکا جاسکے ۔
