بلیک فنگس کی دوا ٹیکس فری، آکسیجن سستی، ویکسین پر 5 فیصد جی ایس ٹی برقرار

,

   

وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کی زیر صدارت جی ایس ٹی کونسل اجلاس میں فیصلہ
نئی دہلی: کورونا سے وابستہ ادویات پر وزرا کونسل کی سفارشات کو ہفتہ کے روز جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے منظوری دے دی گئی۔ وزیر فینانس نرملا سیتارمن کی زیر صدارت جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں بلیک فنگس کی دوا کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کو منظوری دی ہے۔ وہیں کورونا سے متعلق دیگر اشیا پر ٹیکس کی شرح کو کم کر دیا گیا ہے۔ تاہم کورونا ویکسین پر عائد 5 فیصد جی ایس ٹی کو برقرار رکھا گیا ہے۔جی ایس ٹی کونسل نے کورونا ویکسین پر 5 فیصد جی ایس ٹی کو برقرار رکھا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران نرملا سیتارمن نے وضاحت پیش کی کہ حکومت 75 فیصد کورونا ویکسین خود خرید رہی ہے اور اس پر جی ایس ٹی بھی ادا کر رہی ہے۔ جب سرکاری ہاسپٹلس کے ذریعے اسے مفت فراہم کیا جائے گا تو عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ خیال رہے کہ دہلی، مغربی بنگال اور اوڈیشہ جیسی ریاستوں کی جانب سے بارہا کورونا ویکسین کو جی ایس ٹی سے استثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔جی ایس ٹی کونسل نے ملک میں بلیک فنگس کے معاملوں میں اضافہ کے پیش نظر اس کے علاج میں استعمال ہونے والے ’ایمفوٹیریسین بی‘ انجیکشن کو جی ایس ٹی سے استثنیٰ قرار دیا ہے۔ وہیں، ٹوسیلیزو میب پر بھی ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ جبکہ ریمیڈیسیور اور دیگر انٹی کاگلنٹ دوا مثلاً ہیپارین پر جی ایس ٹی کی شرح کو 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیاہے’جی ایس ٹی کونسل نے کورونا سے وابستہ دیگر راحتی اشیا پر بھی ٹیکس کی شرح میں رعایت دی ہے۔ میڈیکل گریڈ آکسیجن، آکسیجن کنسنٹریٹر، وینٹی لیٹر، بائی پیپ مشین، ہائی فلو نیزل کونولا اور کووڈ ٹیسٹنگ کٹ اب سستے داموں میں دستیاب ہوں گے، کیونکہ کونسل نے ان سبھی پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی ہے۔