میناکشی تیواری
انکت راج
ملک بھر میں مختلف مقامات پر بم رکھے جانے کی دھمکیوں کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف پچھلے ایک سال 3 ماہ باالفاظ دیگر 15 ماہ کے دوران اسکولوں، عدالتوں، طیرانگاہوں اور اسپتالوں میں بم رکھنے کی ایک دو نہیں بلکہ زائداز 1600 دھمکیاں موصول ہوئیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام دھمکیاں فرضی یا جھوٹی ثابت ہوئیں۔ ان جھوٹی اور فرضی دھمکیوں کے بارے میں ایک اور دلچسپ انکشاف یہ ہوا کہ اکثر دھمکیاں ای میلس کے ذریعہ دی گئیں اور ہر مرتبہ بڑے پیمانہ پر سکیورٹی جانچ کا انتظام کیا گیا۔ تلاشیاں لی گئیں اس کے باوجود کہیں سے بھی کچھ بھی ایسی چیز نہیں ملی جسے مشتبہ کہا جائے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے لوگوں پر زبردست خوف و ہراس پیدا ہوا، دہشت پھیل گئی، بدنظمی پیدا ہوئی اور وسائل پر شدید دباؤ کا باعث بنا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بنگلورو کے کورمنگلا میں واقع پاسپورٹ سیوا کیندر کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گذار کا دعویٰ تھا کہ جس زمین پر یہ عمارت کھڑی ہے وہ کبھی کھیل کا میدان ہوا کرتا تھا چونکہ درخواست گذار اپنے دعوے کی تصدیق یا اس کی تائید میں کوئی دستاویز پیش نہیں کرسکا۔ ایسے میں عدالت نے عرضی مسترد کردی آپ کو اس کی حقیقت بتاتے ہیں کہ جون 2025ء سے اب تک اس پاسپورٹ سیوا کیندر کو تین بار بم دھماکوں سے اُڑانے کی دھمکی ملی ہے جو ہر بار فرضی پائی گئی۔ اس قسم کی خبر کوئی پہلی خبر نہیں ہے بلکہ ہر دن ملک کے کسی نہ کسی حصہ سے ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں۔ دی وائر کی ایک اسٹڈی کے مطابق پچھلے 15 ماہ ہندوستان کے لئے آزمائشی رہے۔ جنوری 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران مختلف مقامات پر بم رکھنے کی جھوٹی اطلاعات سے متعلق 1613 واقعات پیش آئے۔ صرف مارچ کے ماہ میں ایسے 150 واقعات پیش آئے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ پہلے تو بم رکھنے کی جھوٹی اطلاعات خود ایک سنگین مسئلہ ہے جبکہ اس قسم کی جھوٹی اطلاعات یا فرضی دھمکیاں دینے والوں کی گرفتاری کی شرح بھی بہت کم رہی۔ ایک اور حقیقت یہ رہی کہ 90 فیصد دھمکیاں ای میل کے ذریعہ بھیجی گئیں، کچھ دھمکیاں فون کال پر دی گئیں اور چند دھمکیوں کے لئے مکتوب لکھے گئے۔ ان دھمکیوں کا بدترین اثر شہری ہوا بازی کی صنعت اور تعلیمی شعبہ پر پڑا ہے چنانچہ بم رکھے جانے کی جھوٹی اطلاعات ملنے پر طیاروں کا رُخ چاہے وہ قومی پروازیں ہوں یا ملکی پروازیں ہوں ان کے رُخ دوسرے ملکوں اور شہروں کی جانب موڑنا پڑا۔ اسکولس و جامعات کے امتحانات ملتوی کرنے پڑے۔ حد تو یہ ہے کہ ان اسپتالوں کو بھی خالی کروانا پڑا جو مریضوں سے بھرے پڑے تھے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صرف اپریل ۔ مئی 2025ء کو چھوڑ کر ہر ماہ بے شمار اسکولوں میں بم رکھے جانے کی جھوٹی اطلاعات ملی ہیں خاص طور پر دہلی این سی آر علاقہ، کرناٹک، راجستھان، گجرات کے بشمول کئی ریاستوں کے اسکولوں کو بم دھماکوں سے اُڑا دینے کی دھمکیاں ملیں اور وہ دھمکیاں ای میل کے ذریعہ دی گئیں۔ ان 10 ماہ میں ملک بھر کے اسکولس و کالجس کو تقریباً 11 سو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس معاملہ میں دہلی اور این سی آر علاقہ کے اسکولس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں وہاں صرف ایک دن میں چار سو سے زائد اسکولوں میں بم رکھے جانے کی دھمکیاں ملیں۔ اس اسٹڈی یا ریسرچ میں دہلی ایسی واحد ریاست کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی جہاں تقریباً ہر ماہ میں اس قسم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اسکولوں کو ملی دھمکیوں کے معاملہ میں دوسرے نمبر پر گجرات ہے۔ تیسرے نمبر ہے مہاراشٹرا اور چوتھے نمبر پر پنجاب آتا ہے۔ ان تمام واقعات میں دلچسپی کی بات یہ ہے کہ تمام کے تمام فرضی ثابت ہوئے لیکن اسکولس خالی کروانے پڑے خصوصی ڈاگ اسکواڈس طلب کئے گئے نتیجہ یہ نکلا کہ طلباء اور اولیائے طلبہ میں خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ جب بھی بم رکھنے کی دھمکیاں وصول ہوتی ہیں سکیورٹی ایجنسیاں فوری حرکت میں آتی ہیں۔ اسکولس، اسپتال، ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشن، ایرپورٹس خالی کرادیئے جاتے ہیں۔ بم کو ناکارہ بنانے والے اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ تلاش لیتے ہیں مگر ہر بار دھمکیاں فرضی ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جہاں اس طرح کی دھمکیاں نہ صرف والدین یا اولیائے طلبہ کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کا باعث بنتی ہیں بلکہ بار بار ایسے واقعات سے گزرنے کے نتیجہ میں بچوں کی ذہنی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق جہاں تک اسکولس میں بم رکھنے کی جھوٹی اطلاعات کا سوال ہے اس میں خود طلبہ ملوث پائے گئے۔ان طلبہ کی غیر ذمہ دارانہ و غیر اخلاقی حرکات کے نتیجہ میں طلبہ، اولیائے طلبہ اور اسکولوں کے انتظامیہ کو مشکلات اور صبر آزما لمحات سے گزرنا پڑا۔ ماہرین اور پولیس عہدہ داروں کا ماننا ہے کہ یہ ایسے طلبہ کی کارستانی ہوتی ہے جو اسکول جانا نہیں چاہتے یا پھر امتحانات کی اچھی طرح تیاری نہیں کرتے اس لئے وہ نہ صرف خود کے اسکول بلکہ و دوسرے اسکولوں میں بھی بم رکھے جانے کی جھوٹی اطلاع دے کر سب کو پریشان کردیتے ہیں۔ غرض چند ایک طلبہ کی شرارت اور حماقت دوسروں کے لئے پریشانی بن جاتی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دھمکیوں کے معاملہ میں اسکولوں کا پہلا نمبر ہے اور اسکولوں کے بعد سب سے زیادہ دھمکی آمیز فون کالس، ای میلس اور چھٹیاں عدالتوں کو موصول ہوتی ہیں جن میں دارالحکومت دہلی، وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات، راجستھان، کرناٹک، بمبئی ہائیکورٹ اور مدراس کے ساتھ منگلورو، بیکانیر جیسے اضلاع کی عدالتیں بھی شامل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جاریہ سال مارچ میں دہلی پولیس نے میسور سے ایک 47 سالہ شخص سری نواس لوئس کو گرفتار کیا جس نے ملک بھر کی ہائیکورٹس میں بم رکھنے کی ایک نہیں دو نہیں بلکہ 1500 کے قریب جھوٹی اطلاعات (دھمکی آمیز ای میلس) بھیجے تھے۔ صرف دہلی ہائیکورٹ کو ہی سری نواس نے زائداز فرض ای میلس بھیجے تھے۔ بعض ایسے ای میلس بھی تھے جس میں بین الاقوامی دہشت گردانہ روابط کے بھی حوالے پائے گئے۔ اکثر واقعات میں ملزمین فرضی ای میل آئی ڈی اور وی این پی پراکسی سرور اور Incripted Email سروسز کا استعمال کرنے اپنی شناخت چھپانے میں کامیاب رہے۔ پروازوں میں یا طیرانگاہوں میں بم رکھنے کی جھوٹی اطلاعات کے معاملہ میں حیدرآباد کا راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سرفہرست ہے۔ اس ایرپورٹ کو 15 ماہ میں زائداز 15 دھمکیاں موصول ہوئیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا جب طیاروں کو راستے سے ہی واپس ہونا پڑا یا ان کا رُخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔ نومبر 2025ء میں جدہ سے حیدرآباد آنے والی انڈیگو ایرلائنز کے ایک طیارہ کا رُخ دھمکی کے بعد ممبئی کی جانب موڑنا پڑا لیکن سکیورٹی جانچ پر طیارہ میں بم رکھنے کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔ اسی طرح ڈسمبر 2025ء میں بھی مدینہ منورہ سے حیدرآباد آنے والی انڈیگو ایرلائنز کی ہی ایک پرواز کا رُخ گجرات کے احمدآباد کی طرف کرنا پڑا جبکہ کویت سے حیدرآباد آنے والی ایک پرواز کا رُخ ممبئی کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بم رکھنے کی جھوٹی دھمکیوں کے معاملات میں دھمکی دینے والوں نے خود کو مسلم ناموں کے ساتھ پیش کیا یا پھر دہشت گرد تنظیموں کا سہارا لیا جو یقینا ایک خطرناک رجحان ہے۔ اس ضمن میں پریاگ راج کا کمبھ میلہ بہترین مثال ہے۔ ایک ہندو نوجوان نے کمبھ میلہ کو دھماکہ سے اُڑانے کی دھمکی دی اور سوشل میڈیا پر خود کو ناصر پٹھان ظاہر کیا۔ اسی طرح لشکر طیبہ کا کارکن ظاہر کرکے اترپردیش کے فیروز آباد میں سلسلہ وار بم دھماکے کرنے کی دھمکی دینے والے ہندو ملزم آکاش تومر نے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ ماہرین کے خیال میں اس طرح جھوٹی اطلاعات کے ذریعہ لوگوں کو پریشان کرنا ایک جرم ہے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لئے خصوصی قانون سازی ضروری ہے۔