بندوق جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں:محبوبہ مفتی

   

بارہمولہ: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوپور حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ بندوق، دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا ہو، اس سے مسئلہ مزید بگڑے گا۔ثروت مند لوگوں سے بارہمولہ آگ متاثرین کی بھر پور مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان غریبوں کے بینک قرضوں پر نظر ثانی کرے ۔ انہوںنے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو یہاں نور پورہ بارہمولہ میں آگ متاثرین سے ملاقات کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ’یہاں ایک مکان میں چار خاندان رہتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میں سے دو کو نکال کر ان کے لئے متبادل انتظام کیا جائے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ ان غریبوں کے بینک قرضوں پر نظر ثانی کرے ۔محبوبہ مفتی نے دولت مند لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان متاثرین کی مدد کریں۔سوپور حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھاہم ایسے حملوں کی ہمیشہ مذمت کرتے ہیں اس سے جموں و کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بندوق چاہئے دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا جنہوں نے بندوق اٹھایا ہے ، اس سے مسئلہ مزید بگڑے گا’۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے کشمیر کی بدنامی ہی ہوتی ہے جبکہ ہر مسئلے کا حل افہام و تفہیم میں مضمر ہوتا ہے ۔دریں اثنا پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی سوپور حملے کی پر زور مذمت کی ہے ۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ‘یہ پاگل پن کب ختم ہوگا۔ کشمیر میں سال 1989 میں بندوق کا ظہور ہوا۔ تب سے 32 برس بیت گئے ۔ میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ بندوق ان ہی لوگوں کو غلام بنا دیتا ہے جن کیلئے یہ اٹھایا جاتا ہے ۔

اسلحہ برداروں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس کے لئے لڑ رہے ہیں’۔بتا دیں کہ قصبہ سوپور کے مین چوک میں ہفتے کو نامعلوم اسلحہ برادروں نے سیکورٹی فورسز کی ایک ناکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو سیکورٹی فورسز اہلکار اور تین عام شہری ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے ۔