بنڈی سنجے کے خلاف ایٹالہ راجندر کی امیت شاہ سے شکایت

   

فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے بجائے اعتدال پسند صدر کے تقرر کا مطالبہ
حیدرآباد۔18۔مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی میں بنڈی سنجے کے خلاف ناراض سرگرمیاں شدت اختیارکرچکی ہیں۔ رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر اور دیگر قائدین نے اسمبلی انتخابات سے قبل تلنگانہ میں پارٹی قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان قائدین کا کہنا ہے کہ بنڈی سنجے کی پالیسیوں سے عوامی تائید کا حصول ممکن نہیں ہے۔ ایٹالہ راجندر جو بی جے پی میں دیگر پارٹیوں سے شمولیت کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے صدرنشین ہیں، نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے ریاستی یونٹ میں ناراض سرگرمیوں اور گروہ بندیوں سے واقف کرایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بنڈی سنجے کی قیادت میں پارٹی کیڈر کے استحکام پر توجہ نہیں دی گئی جو انتخابات میں کامیابی کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے پارٹی میں اصلاحات کے سلسلہ میں 6 نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے جس کے تحت پارٹی کے قدیم اور نئے قائدین میں تال میل پیدا کرنے کی تجویز شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بنڈی سنجے کی کٹر ہندوتوا پالیسی سے کئی قائدین نے اختلاف کیا۔ کرناٹک میں ہندوتوا ایجنڈہ اور فرقہ وارانہ منافرت کو بدترین شکست کے بعد تلنگانہ میں اعتدال پسند قائد کو ریاستی صدر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی ہائی کمان نے اس مسئلہ پر بنڈی سنجے سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ راجندر نے کرناٹک کی طرح فرقہ وارانہ مسائل کو تلنگانہ میں ہوا دینے کی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی میں بڑھتی بے چینی کا فائدہ کانگریس کو ہوسکتا ہے کیونکہ بی جے پی کے کئی ناراض قائدین کانگریس قائدین سے ربط میں ہیں۔ر