بنگال انتخابات ‘ منافرت پر انحصار

   

ویسے تو ملک کی تقریبا ہر ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور عوامی تائید کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ انتخابی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کس پر بھروسہ کرتے ہیں اور کس کو زیادہ خاطر میں لانے سے گریز کرتے ہیں۔ اب ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں۔ انتخابی عمل شروع ہوچکا ہے اور زبردست سرگرمیاںشروع ہوگئی ہیں۔ ان سب میں تاہم مغربی بنگال کے انتخابات کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ اس کے ملک کی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہے ۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی ممتابنرجی حکومت اپنے تین معیادوں سے جاری اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو بی جے پی کی جانب سے ریاست میں پہلی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی یہاں انتخابات میں کامیابی کیلئے کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی ۔ انتخابات لڑنا اور انتخابات میں کامیابی کیلئے جدوجہد کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے تاہم اس کیلئے بی جے پی نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ افسوسناک کہی جاسکتی ہے ۔ بی جے پی کسی عوامی مسئلہ پر یا فلاحی منصوبہ پر عوام سے رجوع ہونے کی بجائے فرقہ پرستی کے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کی تائید اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی ہمیشہ ہی فرقہ پرستانہ ایجنڈہ ہی اختیار کرکے انتخابی کامیابی حاصل کرتی ہے اور اسے ترقیاتی اور عوامی مسائل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہتی ۔ اب بنگال کیلئے بھی بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ اترپردیش میں ماضی اختیار کی گئی پالیسی کو دہرانا چاہتی ہے ۔ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں خود وزیر اعظم نریندر مودی نے شمشان ۔ قبرستان اور عید و دیوالی جیسے مسائل کو ہوا دی تھی ۔ اب بی جے پی نے بنگال میں نماز اور پوجا کا تذکرہ چھیڑ دیا ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے پاس بنگال کے عوام کی تائید حاصل کرنے مرکزی حکومت کی کوئی کارکردگی نہیں ہے ۔ وہ عوامی مسائل پر توجہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔
بی جے پی بنگال میں بھی صرف فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکاتے ہوئے انتخابی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہوگئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے نئے صدر نتن نابن نے نماز اور پوجا کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بنگال میں نماز تو پوری آزادی کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے تاہم پوجا اور پنڈال لگانے کیلئے عدالت سے اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے ۔ عوام کو مہبی مسائل اور جذباتی امور میں الجھاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی بنگال میں شروع کردی گئی ہے ۔ بنگال میں گذشتہ انتخابات میں بھی اسی طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور مذہبی جذبات کو اشتعال دلایا گیا تھا ۔ تاہم بی جے پی کوئی کامیابی حاصل نہیں کرپائی تھی اور اسے کچھ نشستوں کا نقصان بھی ہوا تھا ۔ اب بھی بی جے پی اسی ڈگر پر آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اترپردیش میں ماضی میںراست ہندو ۔ مسلم کرتے ہوئے شمشان اور قبرستان کا تذکرہ کیا گیا تھا اسی طرح اب بنگال میں نماز اور پوجا کا مسئلہ چھیڑ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی بنگال میں اپنے آلہ کار عناصر کو بھی شدت کے ساتھ میدان میں اتار رہی ہے اور ان کو بھی ووٹوں کی تقسیم اور ماحول کو بگاڑنے کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ خود بھی بی جے پی کے اعلی قائدین اس طرح کے مسائل کو ہوا دینے لگ گئے ہیں جن کا عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود سے راست کوئی تعلق نہیں ہے ۔
گذشتہ تین مرتبہ کے انتخابات میں بی جے پی کو جس طرح سے مغربی بنگال کے عوام نے مسترد کردیا تھا اس بار بھی انہیں چوکس رہنے اور سیاسی سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ مذہبی جذبات کے استحصال کرنے والی طاقتوں سے ریاست کے عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے بلکہ اپنے ووٹ کے ذریعہ ایسی طاقتوں کو سبق سکھانا چاہئے جو فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکاتے ہوئے اپنے سیاسی فائدہ کی کوشش کرتے ہیں۔ بنگال کے عوام سیاسی سمجھ بوجھ کے ریعہ سارے ملک کے عوام کو ایک پیغام دے سکتے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتوں کو عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ سبق سکھاسکتے ہیں اور ایسا کرنا چاہئے ۔